سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ
باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1354
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ،عَنْ حُصَيْنٍ، نَحْوَهُ، قَالَ:" وَأَعْظِمْ لِي نُورًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ: عَنْ حَبِيبٍ فِي هَذَا، وَكَذَلِكَ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: عَنْ أَبِي رِشْدِينَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
اس طریق سے بھی حصین سے اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں «وأعظم لي نورا» کا جملہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوخالد دالانی نے اس حدیث میں «عن حبيبٍ» کہا ہے اور سلمہ بن کہیل نے «عن أبي رشدين عن ابن عباس» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1354]
خالد نے حصین سے اس کے مثل بیان کیا ہے اور کہا: ” «وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» ”اور میرے لیے نور کو بڑا کر دے“ یعنی «اللَّهُمَّ» ”اے اللہ“ کے بغیر۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ابوخالد دالانی نے حبیب سے سابقہ روایت میں اور اس روایت میں بھی ایسے ہی کہا ہے۔ اور سلمہ بن کہیل نے بواسطہ ابو رشدین، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 58، (تحفة الأشراف: 6287) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (58) ورواه مسلم (763)
انظر الحديث السابق (58) ورواه مسلم (763)
حدیث نمبر: 1355
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنْظُرَ كَيْفَ يُصَلِّي،" فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قِيَامُهُ مِثْلُ رُكُوعِهِ وَرُكُوعُهُ مِثْلُ سُجُودِهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ، ثُمَّ قَرَأَ بِخَمْسِ آيَاتٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سورة آل عمران آية 190 فَلَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ هَذَا حَتَّى صَلَّى عَشْرَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى سَجْدَةً وَاحِدَةً فَأَوْتَرَ بِهَا وَنَادَى الْمُنَادِي عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ، فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: خَفِيَ عَلَيَّ مِنْ ابْنِ بَشَّارٍ بَعْضُهُ.
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک رات گزاری تاکہ دیکھوں کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں، تو آپ اٹھے اور وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے رکوع کے برابر اور رکوع سجدے کے برابر تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے، پھر جاگے تو وضو اور مسواک کیا، پھر سورۃ آل عمران کی یہ پانچ آیتیں «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار» (آل عمران: ۱۹۰) اخیر تک پڑھیں اور پھر اسی طرح آپ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس رکعتیں ادا کیں، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت پڑھی اور اس سے وتر (طاق) کر لیا، اس وقت مؤذن نے اذان دی، مؤذن خاموش ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں ادا کیں پھر بیٹھے رہے یہاں تک کہ فجر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن بشار کی روایت کا بعض حصہ مجھ پر مخفی رہا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1355]
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں گزاری تاکہ دیکھوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیسے پڑھتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، وضو کیا اور دو رکعتیں پڑھیں۔ آپ کا قیام آپ کے رکوع کی مانند تھا اور آپ کا رکوع آپ کے سجدہ کے مثل۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر جاگے، وضو کیا، مسواک کی، پھر سورۃ آل عمران کی آخری پانچ آیتیں تلاوت کیں ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ﴾ [سورة آل عمران: 190] آپ اسی انداز میں کرتے رہے حتیٰ کہ دس رکعتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ایک رکعت پڑھی اور اس سے اپنی نماز کو وتر بنایا۔ اور اسی اثنا میں مؤذن نے اذان کہی تو اس کے خاموش ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں، پھر بیٹھ رہے حتیٰ کہ صبح کی نماز پڑھی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”میں ابن بشار کی حدیث کا بعض حصہ سن نہیں سکا (جس طرح کہ میں چاہتا تھا)۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11059) (ضعیف)» (اس کے راوی شریک اور زہیر میں کچھ کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
كريب لم يسمع من الفضل بن عباس رضي اللّٰه عنه (انظرتهذيب الكمال للمزي 390/15)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55
إسناده ضعيف
كريب لم يسمع من الفضل بن عباس رضي اللّٰه عنه (انظرتهذيب الكمال للمزي 390/15)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55
حدیث نمبر: 1356
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أَمْسَى، فَقَالَ:" أَصَلَّى الْغُلَامُ؟" قَالُوا: نَعَمْ،" فَاضْطَجَعَ حَتَّى إِذَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ قَامَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَبْعًا أَوْ خَمْسًا أَوْتَرَ بِهِنَّ لَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ کے پاس رہا، شام ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: ”کیا بچے نے نماز پڑھ لی؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ جب رات اس قدر گزر گئی جتنی اللہ کو منظور تھی تو آپ اٹھے اور وضو کر کے سات یا پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور صرف آخر میں سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1356]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ رات ہو چکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا لڑکے نے نماز پڑھ لی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لیٹ گئے حتیٰ کہ جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا جو اللہ نے چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور وضو کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات یا پانچ رکعات پڑھیں اور انہیں وتر بنایا اور ان رکعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (درمیان میں) کوئی تشہد نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 41 (117)، الأذان 57 (697)، سنن النسائی/الإمامة 22 (807)، (تحفة الأشراف:5496)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/341، 354)، دی/الطہارة 3 (684) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (117)
حدیث نمبر: 1357
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ" فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَدَارَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسًا، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ کے گھر رات گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی پھر (گھر) تشریف لائے تو چار رکعتیں پڑھیں، پھر سو گئے پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا آپ نے مجھے گھما کر اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا، پھر پانچ رکعتیں پڑھیں اور سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنائی دینے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور جا کر فجر پڑھی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1357]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر گھر تشریف لائے اور چار رکعتیں پڑھیں، پھر سو رہے، پھر جاگے اور نماز پڑھنے لگے۔ میں بھی اٹھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اپنی دائیں جانب پھیر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھیں، پھر سو گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹے سنے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر نماز فجر کے لیے تشریف لے گئے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5496) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (117)
حدیث نمبر: 1358
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ:" فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ وَلَمْ يَجْلِسْ بَيْنَهُنَّ".
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ قصہ ان سے بیان کیا ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو دو کر کے آٹھ رکعتیں پڑھیں، پھر پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور ان کے بیچ میں بیٹھے نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1358]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس قصے میں بیان کیا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور دو، دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی حتیٰ کہ آٹھ رکعتیں پڑھیں، پھر پانچ رکعتیں وتر پڑھے اور ان کے درمیان میں تشہد کے لیے نہیں بیٹھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الإمامة 22 (807)، (تحفة الأشراف: 5644) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1359
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْهِ، قَبْلَ الصُّبْحِ يُصَلِّي سِتًّا مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَقْعُدُ بَيْنَهُنَّ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں کو لے کر تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے: دو دو کر کے چھ رکعتیں پڑھتے اور وتر کی پانچ رکعتیں پڑھتے اور صرف ان کے آخر میں قعدہ کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1359]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں سمیت تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ چھ رکعتیں دو دو کر کے، پھر پانچ وتر اور ان میں صرف آخر ہی میں بیٹھتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16385)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/275) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ابن إسحاق صرح بالسماع عند البيھقي (3/28)
ابن إسحاق صرح بالسماع عند البيھقي (3/28)
حدیث نمبر: 1360
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ".
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو فجر کی سنتوں کو لے کر کل تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1360]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں فجر کی سنتوں سمیت تیرہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «م /المسافرین 17 (737)، (تحفة الأشراف: 16371)، مسند احمد (6/222) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (737)
حدیث نمبر: 1361
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْمُقْرِئَ أَخْبَرَهُمَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ قَائِمًا وَرَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدَعُهُمَا". قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ فِي حَدِيثِهِ:" وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، زَادَ جَالِسًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں فجر کی دونوں اذانوں کے درمیان پڑھیں، انہیں آپ کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ جعفر بن مسافر کی روایت میں ہے: اور دو رکعتیں دونوں اذانوں کے درمیان بیٹھ کر پڑھیں۔ انہوں نے «جالسا» (بیٹھ کر) کا اضافہ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1361]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں، اور دونوں اذانوں (فجر کی اذان اور اقامت) کے درمیان دو رکعتیں پڑھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ترک نہ کیا کرتے تھے۔“ جعفر بن مسافر کی روایت ہے کہ ”دو اذانوں کے مابین دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔“ یہ اضافہ (بیٹھ کر) جعفر بن مسافر کا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 22 (1159)، (تحفة الأشراف: 17735)، وانظر حدیث رقم: (1342) (صحیح)» «وركعتين جالساً بين الأذانين» خطا ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ وتر کے بعد کی دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھیں (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 5؍ 103- 104)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله بين الأذانين والمحفوظ بعد الوتر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1159)
حدیث نمبر: 1362
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ:" كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ:" وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ"، قُلْتُ: مَا يُوتِرُ، قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ يَدَعُ ذَلِكَ". وَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ:" وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ".
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: کبھی چار اور تین، کبھی چھ اور تین، کبھی آٹھ اور تین اور کبھی دس اور تین، کبھی بھی آپ وتر میں سات سے کم اور تیرہ سے زائد رکعتیں نہیں پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد بن صالح نے اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی رکعتوں کو وتر نہیں کرتے تھے، میں نے پوچھا: انہیں وتر کرنے کا کیا مطلب؟ تو وہ بولیں: انہیں نہیں چھوڑتے تھے اور احمد نے چھ اور تین کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1362]
عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتنی رکعات وتر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی) چار اور تین، (کبھی) آٹھ اور تین اور (کبھی) دس اور تین رکعات پڑھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر سات سے کم اور تیرہ رکعت سے زیادہ نہ ہوتے تھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”احمد بن صالح نے مزید روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو رکعتیں ”وتر“ نہ کرتے تھے۔“ میں نے پوچھا کہ وتر کرنے کا کیا معنی؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ رکعتیں چھوڑا نہ کرتے تھے۔“ اور احمد نے چھ اور تین رکعات کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16282)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 6 (307)، مختصراً سنن الترمذی/فضائل القرآن 23 (16282)، مسند احمد (6/149) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1264)
عبدالله بن وھب المصري صرح بالسماع عند الطحاوي في معاني الآثار (1/ 285، وسنده صحيح / معاذ علي زئي)
مشكوة المصابيح (1264)
عبدالله بن وھب المصري صرح بالسماع عند الطحاوي في معاني الآثار (1/ 285، وسنده صحيح / معاذ علي زئي)
حدیث نمبر: 1363
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً وَتَرَكَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُبِضَ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ، وَكَانَ آخِرُ صَلَاتِهِ مِنَ اللَّيْلِ الْوِتْرَ".
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رات کو آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ پھر گیارہ رکعتیں پڑھنے لگے اور دو رکعتیں چھوڑ دیں، پھر وفات کے وقت آپ نو رکعتیں پڑھنے لگے تھے اور آپ کی رات کی آخری نماز وتر ہوتی تھی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1363]
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ پھر گیارہ رکعات پڑھنے لگے اور دو رکعتیں چھوڑ دیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعات پڑھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نماز وتر ہوا کرتی تھی۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16034) (ضعیف)» (اس کے راوی منصور کے حافظہ میں کچھ کمزوری ہے، نیز ابو اسحاق مختلط ہیں اور منصور کی ان سے روایت کے بارے میں پتہ نہیں کہ اختلاط سے پہلے ہے یا بعد میں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق السبيعي عنعن
وحديثا مسلم (739،740) صحيحان بغير ھذا اللفظ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55
إسناده ضعيف
أبو إسحاق السبيعي عنعن
وحديثا مسلم (739،740) صحيحان بغير ھذا اللفظ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55