🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب فيمن لم يوتر
باب: جو شخص وتر نہ پڑھے وہ کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1419
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: وتر حق ہے ۱؎ جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم سے نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:1986)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/357) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبیداللہ العتکی ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اگر صحیح ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وتر کا پڑھنا ثابت ہے، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کی تخریج ابن المنذر نے ان الفاظ میں کی ہے «الوتر حق وليس بواجب» یعنی وتر ایک ثابت شدہ امر ہے لیکن واجب نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
أبو المنيب حسن الحديث في غير ما أنكر عليه
انظر تحفة الأقوياء في تحقيق كتاب الضعفاء للبخاري (215) وھذا الحديث مما أنكر عليه
انظر ميزان الإعتدال (11/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن عبد الله السنجي، أبو المنيب
Newعبيد الله بن عبد الله السنجي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله
Newالفضل بن موسى السيناني ← عبيد الله بن عبد الله السنجي
ثقة ثبت ربما أغرب
👤←👥إبراهيم بن عيسى الطالقاني، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن عيسى الطالقاني ← الفضل بن موسى السيناني
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← إبراهيم بن عيسى الطالقاني
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1419
الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا
بلوغ المرام
297
الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1419 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1419
1419. اردو حاشیہ: ہم میں سے نہیں کا مطلب ہے، ہماری سنت اور طریقے پر نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1419]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 297
نفل نماز کا بیان
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر برحق ہے جس نے وتر نہ پڑھے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔
ابوداؤد نے اسے کمزور سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے احمد کے نزدیک اس کا شاہد بھی ہے جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے مگر وہ ضعیف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 297»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب فيمن لم يوتر، حديث:1419، والحاكم:1 /305.* أبو المنيب حسن الحديث في غير ما أنكر عليه وهذا الحديث مما أنكر عليه، وحديث أبي هريرة أخرجه أحمد:2 /443، وسنده ضعيف جدًا، فيه خليل بن مرة وهو منكر الحديث كما قال البخاري.»
تشریح:
ہمارے فاضل محقق اور حضرت شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو ضعیف ہی قرار دیا ہے لیکن الموسوعۃ الحدیثیہ کے محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۱۵ / ۴۴۷‘ و ۳۸ / ۱۲۷‘ ۱۲۸) بہرحال مذکورہ حدیث قابل حجت اور حسن ہونے کے باوجود وتروں کے وجوب پر دلالت نہیں کرتی بلکہ اس حدیث میں مذکور الفاظ سے وتروں کی اہمیت اور تاکید ہی ثابت ہوتی ہے‘ لہٰذا راجح موقف یہی ہے کہ اس حدیث کو تاکید پر محمول کر لیا جائے اور جمہور کے موقف کو اختیار کیا جائے کہ وتر سنت ہیں واجب نہیں جیسا کہ تفصیل حدیث: ۲۹۳ میں گزر چکی ہے۔
راویٔ حدیث:
«عبداللہ بن بریدہ» ان کی کنیت ابوسہل ہے۔
مرو میں منصب قضاء پر فائز رہے۔
مشاہیر اور ثقہ تابعین میں شمار کیے گئے۔
تیسرے طبقہ کے مشاہیر میں سے تھے۔
۱۱۵ ہجری میں مرو ہی میں فوت ہوئے۔
ان کے باپ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے حالات پیچھے گزر چکے ہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 297]