سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب ما جاء في آية الكرسي
باب: آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1460
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبَا الْمُنْذِرِ، أَيُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ؟" قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَبَا الْمُنْذِرِ، أَيُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ؟" قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255، قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، وَقَالَ:" لِيَهْنَ لَكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ الْعِلْمُ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابومنذر! ۱؎ کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے باعظمت ۲؎ ہے؟“، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”ابومنذر! کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے بڑی ہے؟“، میں نے عرض کیا: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم»، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایا: ”اے ابومنذر! تمہیں علم مبارک ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1460]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”اے ابو منذر! تمہیں کتاب اللہ میں سے کون سی آیت یاد ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) فرمایا: ”اے ابو منذر! تمہیں کتاب اللہ میں سے کون سی آیت یاد ہے جو سب سے اعظم ہو؟“ میں نے عرض کیا: ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة البقرة: 255] اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے میں مارا اور فرمایا: ”اے ابو منذر! تمہیں علم مبارک ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 44 (810)، (تحفة الأشراف:38)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/141) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔
۲؎: باعظمت سے مراد الفاظ کی کثرت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے معانی کی عظمت مراد ہے یعنی اس آیت کے معنی بہت عظیم ہیں نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے درجہ کی بڑائی مراد ہے یعنی اس آیت کا درجہ بڑا ہے کیونکہ اس میں اللہ کی عظمت، اس کی وحدانیت اور اس کی صفات کاملہ کا ذکر ہے۔
۲؎: باعظمت سے مراد الفاظ کی کثرت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے معانی کی عظمت مراد ہے یعنی اس آیت کے معنی بہت عظیم ہیں نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے درجہ کی بڑائی مراد ہے یعنی اس آیت کا درجہ بڑا ہے کیونکہ اس میں اللہ کی عظمت، اس کی وحدانیت اور اس کی صفات کاملہ کا ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (810)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1885
| أي آية من كتاب الله معك أعظم قال قلت الله ورسوله أعلم قال يا أبا المنذر أتدري أي آية من كتاب الله معك أعظم قال قلت الله لا إله إلا هو الحي القيوم |
سنن أبي داود |
1460
| أي آية معك من كتاب الله أعظم قال قلت الله ورسوله أعلم قال أبا المنذر أي آية معك من كتاب الله أعظم قال قلت الله لا إله إلا هو الحي القيوم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1460 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1460
1460. اردو حاشیہ:
➊ یہ حدیث آیۃ الکرسی کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔
➋ آیۃ الکرسی دیگر عام آیات کی نسبت سے لمبی ہونے کے ساتھ ساتھ معانی فضیلت وثواب کے لہاظ سے بہت بڑی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ عزوجل کی صفات پر مشتمل ہے۔
➌ علم اللہ تعالیٰ کی خاص دین ہے۔ جسے وہ عنایت فرما دے۔ اور بالخصوص قرآن وسنت کا علم۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جوشخص ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے۔ اس کو موت کے علاوہ کوئی چیز جنت میں جانے سے مانع نہیں ہے۔ [السنن الکبریٰ للنسائي، عمل الیوم واللیة، حدیث: 9928]
➎ یہ حدیث تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی دلالت کرتی ہے۔
➏ اس سےقرآن مقدس کے بعض حصے کی بعض پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
➐ دینی مصلحت کی بناء پر کسی شخص کی منہ پر مدح سرائی جائز ہے۔ جب کہ اس کے خود پسندی اور تکبر میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ واللہ أعلم
➊ یہ حدیث آیۃ الکرسی کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔
➋ آیۃ الکرسی دیگر عام آیات کی نسبت سے لمبی ہونے کے ساتھ ساتھ معانی فضیلت وثواب کے لہاظ سے بہت بڑی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ عزوجل کی صفات پر مشتمل ہے۔
➌ علم اللہ تعالیٰ کی خاص دین ہے۔ جسے وہ عنایت فرما دے۔ اور بالخصوص قرآن وسنت کا علم۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جوشخص ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے۔ اس کو موت کے علاوہ کوئی چیز جنت میں جانے سے مانع نہیں ہے۔ [السنن الکبریٰ للنسائي، عمل الیوم واللیة، حدیث: 9928]
➎ یہ حدیث تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی دلالت کرتی ہے۔
➏ اس سےقرآن مقدس کے بعض حصے کی بعض پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
➐ دینی مصلحت کی بناء پر کسی شخص کی منہ پر مدح سرائی جائز ہے۔ جب کہ اس کے خود پسندی اور تکبر میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ واللہ أعلم
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1460]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1885
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو المنذر! کیا تم جانتےہو کہ تمھارے پاس کتاب اللہ کی کونسی آیت، سب سے عظیم ہے؟“ میں نے عرض کیا، اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی خوب علم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو المنذر! کیا تم جانتے ہو، اللہ کی کتاب کی کونسی آیت تمہارے نزدیک، سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟“ میں نے عرض کیا ﴿اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ ﴾ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1885]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قرآن مجید کی آیات کلام الٰہی ہونے کے اعتبار سے یکساں حیثیت اور مقام کی حامل ہیں لیکن اپنے مضامین و مطالب کے اعتبار سے ان کے اجرو ثواب میں فرق ہے مثلاً ایک طرف سورہ لہب ہے جس میں ابو لہب کی بد انجامی اور بد کاری کا تذکرہ ہے اور دوسری طرف سورہ اخلاص ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی صفات وحدانیت کا ذکر ہے تو ان دونوں کے مضامین میں زمین وآسمان کا فرق ہے،
اس لیے ان کا اجرو ثواب کیسے یکساں ہو سکتا ہے؟ اس طرح قرآن مجید کی تمام آیات سے آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا سب سے زیادہ (سترہ دفعہ)
تذکرہ ہے اور یہ تمام آیات قرآن کی سردار ہے۔
فوائد ومسائل:
قرآن مجید کی آیات کلام الٰہی ہونے کے اعتبار سے یکساں حیثیت اور مقام کی حامل ہیں لیکن اپنے مضامین و مطالب کے اعتبار سے ان کے اجرو ثواب میں فرق ہے مثلاً ایک طرف سورہ لہب ہے جس میں ابو لہب کی بد انجامی اور بد کاری کا تذکرہ ہے اور دوسری طرف سورہ اخلاص ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی صفات وحدانیت کا ذکر ہے تو ان دونوں کے مضامین میں زمین وآسمان کا فرق ہے،
اس لیے ان کا اجرو ثواب کیسے یکساں ہو سکتا ہے؟ اس طرح قرآن مجید کی تمام آیات سے آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا سب سے زیادہ (سترہ دفعہ)
تذکرہ ہے اور یہ تمام آیات قرآن کی سردار ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1885]
Sunan Abi Dawud Hadith 1460 in Urdu
عبد الله بن رباح الأنصاري ← أبي بن كعب الأنصاري