سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب الدعاء
باب: دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1492
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ".
یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1492]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:11828)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/221) (ضعیف)» (اس کے راوی ابن لھیعہ ضعیف ہیں اور حفص بن ہاشم مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حفص بن هاشم مجهول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
إسناده ضعيف
حفص بن هاشم مجهول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1492
| إذا دعا فرفع يديه مسح وجهه بيديه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1492 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1492
1492. اردو حاشیہ: اس مسئلے کی توضیح کے لئے دیکھئے حدیث 1485 کے فوائد۔ نیز خیال رہے کہ ہر موقع کی دُعا میں ہاتھ اُٹھانا بھی ثابت نہیں ہے۔ بےشمارمواقع ہیں کہ وہاں دعا مشروع ہے۔ مگرہاتھ اُٹھانے ثابت ہی نہیں ہیں۔ مثلا کھانے کے بعد یا نیند کے موقع پر وغیرہ۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1492]
السائب بن يزيد الكندي ← يزيد بن سعيد الكندي