🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب في الاستغفار
باب: توبہ و استغفار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1514
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيق، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ، وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةٍ".
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 107 (3559)، (تحفة الأشراف:6628) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے ایک راوی مولی لا ٔبی بکر مبہم مجہول آدمی ہیں)
وضاحت: ۱؎: صغیرہ گناہوں پر اصرار سے وہ کبیرہ ہو جاتے ہیں، اور کبیرہ پر اصرار کرنے سے آدمی کفر تک پہنچ جاتا ہے، لیکن اگر ہر گناہ کے بعد صدق دل سے توبہ و استغفار کر لے اور اسے دوبارہ نہ کرنے کی پختہ نیت کرے، مگر بدقسمتی سے پھر اس میں مبتلا ہوجائے تو یہ اصرار نہ ہو گا، اس طرح اس حدیث سے استغفار کی فضیلت ثابت ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2340)
وللحديث شاھد حسن لذاته عند الطبراني في الدعاء (1797) فيه أبو شيبة سعيد بن عبد الرحمن الأسدي حسن الحديث

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو بكر الصديق، أبو بكرصحابي
👤←👥أبو رجاء مولى أبي بكر، أبو رجاء
Newأبو رجاء مولى أبي بكر ← أبو بكر الصديق
مجهول
👤←👥مسلم بن عبيد الواسطي، أبو نصيرة
Newمسلم بن عبيد الواسطي ← أبو رجاء مولى أبي بكر
ثقة
👤←👥عثمان بن واقد العمري
Newعثمان بن واقد العمري ← مسلم بن عبيد الواسطي
صدوق حسن الحديث
👤←👥مخلد بن يزيد الحراني، أبو خالد، أبو خداش، أبو الحسن، أبو يحيى، أبو الجيش
Newمخلد بن يزيد الحراني ← عثمان بن واقد العمري
ثقة
👤←👥عبد الله بن محمد القضاعي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد القضاعي ← مخلد بن يزيد الحراني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3559
ما أصر من استغفر ولو فعله في اليوم سبعين مرة
سنن أبي داود
1514
ما أصر من استغفر وإن عاد في اليوم سبعين مرة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1514 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1514
1514. اردو حاشیہ:
➊ استغفار کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا۔ کہ وہ ان کو اپنی رحمت سے ڈھانپ دے۔ اور بندے کو رُسوا نہ کرے۔
➋ اپنے گناہوں پراڑنا اور اصرار کرنا۔ ظالموں اور گناہ گاروں کی عادت ہے۔ [يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ]
[الجاثیة۔8]
اللہ کی آیات کو سنتا ہے۔ جو کہ اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر اڑا رہتا ہے۔ (اپنے گناہوں پر) تکبرکرتے ہوئے۔ گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں۔ تو ایسے کو درد ناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجیئے۔ جب کہ متقی انسان کی صفت اس کے برخلاف ہوتی ہے۔ [وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ]
[آل عمران۔135]
متقی اپنے کیے پراصرار نہیں کرتے۔ اور وہ جانتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1514]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3559
باب:۔۔۔
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گناہ کر کے توبہ کر لے اور اپنے گناہ پر نادم ہو تو وہ چاہے دن بھر میں ستر بار بھی گناہ کر ڈالے وہ گناہ پر مُصر اور بضد نہیں مانا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3559]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3559]