🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب الصلاة على غير النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے پر درود بھیجنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1533
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے اور میرے شوہر کے لیے رحمت کی دعا فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صلى الله عليك وعلى زوجك» اللہ تجھ پر اور تیرے شوہر پر رحمت نازل فرمائے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:3118)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الشمائل (179)، سنن النسائی/الیوم اللیلة (423) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نبيح بن عبد الله العنزي، أبو عمرو
Newنبيح بن عبد الله العنزي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥الأسود بن قيس العبدي، أبو قيس
Newالأسود بن قيس العبدي ← نبيح بن عبد الله العنزي
ثقة
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← الأسود بن قيس العبدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عيسى البغدادي، أبو جعفر
Newمحمد بن عيسى البغدادي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1533
صلى الله عليك وعلى زوجك
مسندالحميدي
1335
أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالقتلى قتلى أحد، أن يردوا إلى مضاجعهم من نقل منهم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1533 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1533
1533. اردو حاشیہ: لفظ [صلاة]
کے متعدد معانی ہیں۔ ان میں سے ایک معنی دعا ہے۔ اور جو [صلاة]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے ہے۔ وہ اپنے مفہوم میں جامع اور عظیم تر ہے۔ اور اس کے خاص الفاظ ہم مسلمانوں کو تعلیم کر دیئے گئے ہیں جیسے کہ درود ابراہیمی وغیرہ میں ہے۔ غیر نبی کے لئے صلاۃ درود شریف میں بالتبع عموما پڑھی جاتی ہے۔ جیسے کہ [صلی الله علی النبيِّ محمدٍ وعلی آلِهٖ و صحبِهِ أجمعينَ) اور (صلی لله عليه وعلی آلهِ و سلم]
جیسے مختصر درود میں آل واصحاب کا ذکر معروف ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا تھا کہ زکوۃ پیش کرنے والوں کے لئے خاص دعا۔ [صلوة]
فرمایا کریں۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے۔ [خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ]
[التوبة۔103]
ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجئے۔ جس سے آپ انہیں پاک کریں۔ اور ان کا تزکیہ فرمایئں۔ اور ان کے حق میں دعائے خیر فرمایئں۔ بلاشبہ آپ کی دعا ان کےلئے سکون کا باعث ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لفظ [صلاة]
سے صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین کودعا دیا کرتے تھے۔ جیسے کہ اس حدیث میں وارد ہے مگر یہ صلاۃ بمعنی دعائے رحمت ہے۔ کیونکہ صلاة کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1533]