🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب ما تجب فيه الزكاة
باب: کن چیزوں میں زکوٰۃ واجب ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1561
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا صُرَدُ بْنُ أَبِي الْمَنَازِلِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبًا الْمَالِكِيَّ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ، إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونَنَا بِأَحَادِيثَ مَا نَجِدُ لَهَا أَصْلًا فِي الْقُرْآنِ، فَغَضِبَ عِمْرَانُ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ: أَوَجَدْتُمْ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَمِنْ كُلِّ كَذَا وَكَذَا شَاةً شَاةٌ، وَمِنْ كُلِّ كَذَا وَكَذَا بَعِيرًا كَذَا وَكَذَا أَوَجَدْتُمْ هَذَا فِي الْقُرْآنِ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَعَنْ مَنْ أَخَذْتُمْ هَذَا؟ أَخَذْتُمُوهُ عَنَّا وَأَخَذْنَاهُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ نَحْوَ هَذَا.
حبیب مالکی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے کہا: ابونجید! آپ ہم لوگوں سے بعض ایسی حدیثیں بیان کرتے ہیں جن کی کوئی اصل ہمیں قرآن میں نہیں ملتی، عمران رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے، اور اس شخص سے یوں گویا ہوئے: کیا قرآن میں تمہیں یہ ملتا ہے کہ ہر چالیس درہم میں ایک درہم (زکاۃ) ہے یا اتنی اتنی بکریوں میں ایک بکری زکاۃ ہے یا اتنے اونٹوں میں ایک اونٹ زکاۃ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: پھر تم نے یہ کہاں سے لیا؟ تم نے ہم سے لیا اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اس کے بعد ایسی ہی چند اور باتیں ذکر کیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1561]
حبیب مالکی کا بیان ہے کہ ایک شخص نے (صحابی رسول) سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابونجید! آپ لوگ ہمیں کچھ ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جن کی اصل ہمیں قرآن میں نہیں ملتی۔ اس پر سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور اس سے کہا: کیا تمہیں قرآن میں یہ ملتا ہے کہ ہر چالیس درہم میں ایک درہم (زکوٰۃ) ہے؟ اور ہر اتنی اتنی تعداد بکریوں میں ایک بکری ہے؟ اور اتنے اتنے اونٹوں میں یہ کچھ (زکوٰۃ) ہے؟ کیا تم لوگوں کو یہ سب قرآن میں ملتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تو تم نے یہ (مسائل و احکام) کس سے لیے ہیں؟ بلاشبہ تم یہ ہم (صحابہ) ہی سے لیتے ہو اور ہم نے انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا ہے۔ (سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے) اس طرح کی اور بھی کئی چیزیں ذکر کیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10791) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے دو راوی صرد اور حبیب لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی بہت سے دینی مسائل و احکام قرآن مجید میں نہیں ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں میں بیان کئے گئے ہیں، تو جس طرح قرآن کی پیروی ضروری ہے اسی طرح حدیث کی پیروی بھی ضروری ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے «ألا إني أوتيت القرآن ومثله معه» مجھے قرآن ملا ہے، اور اسی کے ساتھ اسی جیسا اور بھی دیا گیا ہوں یعنی حدیث شریف، پس حدیث قرآن ہی کی طرح لائق حجت و استناد ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صرد بن أبي المنازل و حبيب بن أبي فضلان مستوران (مجھولا الحال)
و روي ابن حبان في الثقات (248/7) بسند حسن عن الحسن البصري قال: ’’ بينما نحن عند عمران بن حصين إذ قال له رجل : يا أبا نجيد ! حدثنا بالقرآن،قال : أليس تقرأ القرآن ﴿ اقيموا الصلاة و اٰتوا الزكوة ﴾ أكنتم تعرفون مواقيتھا و ركوعھا و سجودھا و حدودھا ؟ أكنت تدري كم الزكاة في الورق و الذھب والإبل والغنم و أصناف المال ؟ شھدت و وعيت فرض رسول اللّٰه ﷺ الزكاة كذا و كذا،فقال الرجل : أحييتني أحياك اللّٰه أبا نجيد ! قال: فما مات (ذلك) الرجل حتي صار من فقھاء المسلمين‘‘ وسنده حسن وھذا يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 62

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥حبيب بن فضالة المالكي، أبو فضالة
Newحبيب بن فضالة المالكي ← عمران بن حصين الأزدي
مقبول
👤←👥صرد بن أبي المنازل البصري
Newصرد بن أبي المنازل البصري ← حبيب بن فضالة المالكي
مجهول الحال
👤←👥محمد بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله الأنصاري ← صرد بن أبي المنازل البصري
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن عبد الله الأنصاري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1561
أوجدتم في كل أربعين درهما درهم ومن كل كذا وكذا شاة شاة ومن كل كذا وكذا بعيرا كذا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1561 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1561
1561. اردو حاشیہ: اس میں یہ اشارہ ہے کہ فتنہ انکار حدیث ایک قدیم فتنہ ہے جس کی ابتدا دور صحابہ ؓ کے آخر میں ہو گئی تھی۔ بلاشبہ اکثر فروعات ہمیں صحیح احادیث ہی میں ملتی ہیں۔ قرآن حکیم نے اصول ذکر کیے ہین اور کہیں کہین اہم فروع بھی۔ اس حدیث میں صحابی رسول حضرت عمران نے نہایت جامعیت اور ایجاز سے فتنہ انکار حدیث کی بیخ کنی کردی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1561]

Sunan Abi Dawud Hadith 1561 in Urdu