🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب رضا المصدق
باب: زکاۃ وصول کرنے والے کی رضا مندی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1589
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي كَامِلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ، يَعْنِي مِنَ الْأَعْرَابِ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا فَيَظْلِمُونَا، قَالَ: فَقَالَ:" أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ ظَلَمُونَا؟ قَالَ:" أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ". زَادَ عُثْمَانُ: وَإِنْ ظُلِمْتُمْ. قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ جَرِيرٌ: مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ یعنی کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: صدقہ و زکاۃ وصول کرنے والوں میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مصدقین کو راضی کرو، انہوں نے پوچھا: اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: تم اپنے مصدقین کو راضی کرو، عثمان کی روایت میں اتنا زائد ہے اگرچہ وہ تم پر ظلم کریں۔ ابوکامل اپنی حدیث میں کہتے ہیں: جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی، اس کے بعد سے میرے پاس جو بھی مصدق آیا، مجھ سے خوش ہو کر ہی واپس گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1589]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الزکاة 55 (989)، سنن النسائی/الزکاة 14 (2462)، (تحفة الأشراف:3218)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة 20 (647)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 11 (1802)، مسند احمد (4/362)، سنن الدارمی/الزکاة 32 (1712) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (989)
مشكوة المصابيح (1783)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جرير بن عبد الله البجلي، أبو عبد الله، أبو عمروصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي هلال العبسي
Newعبد الرحمن بن أبي هلال العبسي ← جرير بن عبد الله البجلي
ثقة
👤←👥محمد بن أبي إسماعيل السلمي
Newمحمد بن أبي إسماعيل السلمي ← عبد الرحمن بن أبي هلال العبسي
ثقة
👤←👥عبد الرحيم بن سليمان الكناني، أبو علي
Newعبد الرحيم بن سليمان الكناني ← محمد بن أبي إسماعيل السلمي
ثقة حافظ
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← عبد الرحيم بن سليمان الكناني
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← عثمان بن أبي شيبة العبسي
ثقة
👤←👥الفضيل بن الحسين الجحدري، أبو كامل
Newالفضيل بن الحسين الجحدري ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2462
أرضوا مصدقيكم
سنن النسائى الصغرى
2463
إذا أتاكم المصدق فليصدر وهو عنكم راض
صحيح مسلم
2494
إذا أتاكم المصدق فليصدر عنكم وهو عنكم راض
صحيح مسلم
2298
أرضوا مصدقيكم
جامع الترمذي
647
إذا أتاكم المصدق فلا يفارقنكم إلا عن رضا
سنن أبي داود
1589
أرضوا مصدقيكم
سنن ابن ماجه
1802
لا يرجع المصدق إلا عن رضا
مسندالحميدي
814
إذا أتاكم المصدق فلا يفارقنكم إلا عن رضا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1589 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1589
1589. اردو حاشیہ: عامل کو راضی کرنا اسی صورت میں ہے کہ وہ واجب شرعی کا مطالبہ کرے تو اسے ادا کر دیا جائے اور اس کے ساتھ حسن معاملہ کا رویہ رکھا جائے اور ظاہر ہے کہ یہ حکم عادل اور غیر ظالم عاملین کے متعلق ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1589]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2462
جب محصل زکاۃ کی وصولی میں زیادتی کرے۔
جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ دیہات کے لوگ آئے، اور انہوں آپ سے عرض کیا: آپ کے بھیجے ہوئے کچھ محصل زکاۃ ہمارے پاس آتے ہیں جو ہم پر ظلم کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی و مطمئن کرو، انہوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ ظلم کریں۔ آپ نے فرمایا: اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو، انہوں نے پھر عرض کیا: اگرچہ وہ ظلم کریں؟ آپ نے فرمایا: اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو۔‏‏۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2462]
اردو حاشہ:
عام لوگ زکاۃ کی مقدار کی تفصیلات سے آگاہ نہیں ہوتے، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ زکاۃ وصول کرنے والا زیادہ لے رہا ہے۔ ویسے بھی زکاۃ دیتے وقت یہ احساس غالب رہتا ہے، س لیے آپ نے زکاۃ کے تعین کا اختیار عوام الناس کو نہیں دیا بلکہ وصول کرنے والوں کو یہ اختیار دیا کیونکہ وہ زکاۃ کی تفصیلات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کے مطالبے کے مطابق انھیں زکاۃ ادا کریں۔ اگر کوئی شکایت ہو تو حاکم بالا کے پاس جائیں اور فیصلہ حاصل کریں۔ لیکن اگر ہر آدمی کو مزاحمت کا اختیار دے دیا جائے تو انتظامی افراتفری پھیل جائے گی اور ملک ابتری کا شکار ہو جائے گا۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ زکاۃ وصول کرنے والوں کے من مانی کی اجازت ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2462]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1802
محصل زکاۃ والے سے کس قسم کا اونٹ لے؟
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عامل زکاۃ لوگوں کو خوش رکھ کر ہی واپس جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1802]
اردو حاشہ:
فائدہ:
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے خندہ پیشانی سے ملو، اس کے فرمائش کی ادائیگی میں اس سے تعاون کرو اور خوشی کے ساتھ زکاۃ ادا کرو۔
اگر تمہاری نظر میں وہ تم سے واجب سے زیادہ طلب کر رہا ہو تو بھی ادا کرو۔
اگر اس کی غلطی ہو گی تو اس کا بوجھ اس کے سر ہوگا، تمہیں ثواب ہی ملے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1802]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:814
814- سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب زکوٰۃ وصول کرنے والا شخص تمہارے پاس آئے تو وہ مطمئن ہو کر تم سے الگ ہو۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:814]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ وصول کرنے والے کو خوشی سے صدقہ جمع کروا دینا چاہیے تاکہ وہ راضی ہو کر جائے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 814]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2494
حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمھارے پاس صدقہ وصول کرنے والا آئے تو وہ تمھارے ہاں سے اس حال میں جائے کہ وہ خوش ہو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2494]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حکومت کے کارکنان اور حکومت سے جب کہ وہ اسلامی حکومت ہو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی پابند ہو۔
تو ہر حالت میں اطاعت وفرمانبرداری سے پیش آنا چاہیے تاکہ باہمی اعتماد اوراتفاق کی فضا برقرار رہے اور ایک دوسرے سے بدظنی اور بدگمانی کی بنا پر حالات میں کشیدگی اور بگاڑ پیدا نہ ہو لیکن یہ اطاعت صحیح اورجائز کاموں میں ہو گی۔
نافرمانی اور ناجائز کاموں میں نہیں ہوگی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2494]