🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب ما لا يجوز منعه
باب: جس چیز کا روکنا جائز نہیں اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1669
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: بُهَيْسَةُ،عَنْ أَبِيهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمَاءُ"، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمِلْحُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ".
بہیسہ اپنے والد (عمیر) کہتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (آپ کے پاس آنے کی) اجازت طلب کی، (اجازت دے دی تو وہ آئے) اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کی قمیص کے درمیان داخل ہو گئے (یعنی آپ کی قمیص اٹھا لی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک کو چومنے اور آپ سے لپٹنے لگے، پھر انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمک، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جتنی نیکی کرو اتنی ہی وہ تمہارے لیے بہتر ہے (یعنی پانی نمک تو مت روکو اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو دوسری چیزیں بھی نہ روکو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، ویأتي برقم: (3476)، (تحفة الأشراف:15697)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 80، 81)، سنن الدارمی/البیوع 70 (2655) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة سیار اور ان کے والد لین الحدیث ہیں اور بہیسہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
والحديث الآتي (3476)
سيار بن منظور و أبوه مستوران لم يوثقھما غير ابن حبان وانظر التحرير (2717،6913)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 67

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمير الفزاري، أبو بهيسةصحابي
👤←👥بهيسة الفزارية
Newبهيسة الفزارية ← عمير الفزاري
مجهول الحال
👤←👥منظور بن سيار الفزاري
Newمنظور بن سيار الفزاري ← بهيسة الفزارية
مقبول
👤←👥سيار بن منظور الفزاري
Newسيار بن منظور الفزاري ← منظور بن سيار الفزاري
مقبول
👤←👥كهمس بن الحسن التيمي، أبو الحسن
Newكهمس بن الحسن التيمي ← سيار بن منظور الفزاري
ثقة
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← كهمس بن الحسن التيمي
ثقة متقن
👤←👥عبيد الله بن معاذ العنبري، أبو عمرو
Newعبيد الله بن معاذ العنبري ← معاذ بن معاذ العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1669
تفعل الخير خير لك
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1669 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1669
1669. اردو حاشیہ: پانی اور نمک ایسی عام اور کثیر الاستعمال اشیاء ہیں۔ کہ ان سے بخل انتہائی بُری صفت ہے۔ بالخصوص پانی جب بلامشقت قدرتی زرائع سے حاصل ہورہا ہو۔ مثلا تالاب چشمہ نہر اور کنواں۔ البتہ ایسے مواقع جہاں پانی کے حصول میں محنت اور مال خرچ ہوا تو مالک کو اختیار ہے لیکن صدقہ کرنا یقیناً افضل اور شرف کی بات ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1669]

Sunan Abi Dawud Hadith 1669 in Urdu