سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب التعريف باللقطة
باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1701
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا، فَقَالَا لِيَ: اطْرَحْهُ، فَقُلْتُ: لَا، وَلَكِنْ إِنْ وَجَدْتُ صَاحِبَهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ فَحَجَجْتُ فَمَرَرْتُ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَسَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقَالَ: وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا حَوْلًا"، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا حَوْلًا"، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا حَوْلًا"، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَقَالَ:" احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا"، وَقَالَ: وَلَا أَدْرِي أَثَلَاثًا قَالَ عَرِّفْهَا أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً.
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ کے ساتھ جہاد کیا، مجھے ایک کوڑا پڑا ملا، ان دونوں نے کہا: اسے پھینک دو، میں نے کہا: نہیں، بلکہ اگر اس کا مالک مل گیا تو میں اسے دے دوں گا اور اگر نہ ملا تو خود میں اپنے کام میں لاؤں گا، پھر میں نے حج کیا، میرا گزر مدینے سے ہوا، میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک تھیلی ملی تھی، اس میں سو (۱۰۰) دینار تھے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ“، چنانچہ میں ایک سال تک اس کی پہچان کراتا رہا، پھر آپ کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال اور پہچان کراؤ“، میں نے ایک سال اور پہچان کرائی، اس کے بعد پھر آپ کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال پھر پہچان کراؤ“، چنانچہ میں ایک سال پھر پہچان کراتا رہا، پھر آپ کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے کوئی نہ ملا جو اسے جانتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تعداد یاد رکھو اور اس کا بندھن اور اس کی تھیلی بھی، اگر اس کا مالک آ جائے (تو بہتر) ورنہ تم اسے اپنے کام میں لے لینا“۔ شعبہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ سلمہ نے «عرفها» تین بار کہا تھا یا ایک بار۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1701]
سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں سیدنا زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، مجھے ایک چابک ملا (جو میں نے اٹھا لیا) تو ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ ”اسے پھینک دے۔“ میں نے کہا: ”نہیں۔ اگر اس کا مالک مجھے مل گیا تو (اسے دے دوں گا) ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔“ پھر میں حج کے لیے گیا اور مدینے بھی آیا تو میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، انہوں نے کہا: ”مجھے ایک تھیلی ملی تھی جس میں سو دینار تھے، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔“ چنانچہ میں ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال (اور) اعلان کرو۔“ میں نے ایک سال اور اس کا اعلان کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال (اور) اعلان کرو۔“ میں نے ایک سال مزید اس کا اعلان کیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں نے کوئی ایسا آدمی نہیں پایا جو اسے جانتا ہو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کو یاد رکھو، اس کی تھیلی اور سربند بھی۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو بہتر، ورنہ ان سے فائدہ اٹھاؤ۔“”(سلمہ بن کبیل رحمہ اللہ نے) کہا: ”مجھے نہیں معلوم کہ ”اعلان کرنے کا حکم“ تین بار دیا یا ایک بار۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللقطة 1 (2426)، 10 (2437)، صحیح مسلم/اللقطة 1 (1723)، سنن الترمذی/الأحکام 35 (1374)، سنن النسائی/الکبری/ اللقطة (5820، 5821)، سنن ابن ماجہ/اللقطة 2 (2506)، (تحفة الأشراف:28)، وقدأخرجہ: مسند احمد (5/126، 127) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2426) صحيح مسلم (1723)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2437
| اعرف عدتها ووكاءها ووعاءها فإن جاء صاحبها وإلا استمتع بها |
صحيح البخاري |
2426
| احفظ وعاءها وعددها ووكاءها فإن جاء صاحبها وإلا فاستمتع بها |
صحيح مسلم |
4506
| عرفها حولا فعرفتها فلم أجد من يعرفها فقال احفظ عددها ووعاءها ووكاءها فإن جاء صاحبها وإلا فاستمتع بها |
جامع الترمذي |
1374
| أحص عدتها ووعاءها ووكاءها فإن جاء طالبها فأخبرك بعدتها ووعائها ووكائها فادفعها إليه وإلا فاستمتع بها |
سنن أبي داود |
1701
| عرفها حولا فعرفتها حولا ثم أتيته فقال عرفها حولا فعرفتها حولا ثم أتيته فقال عرفها حولا فعرفتها حولا ثم أتيته فقلت لم أجد من يعرفها فقال احفظ عددها ووكاءها ووعاءها فإن جاء صاحبها وإلا فاستمتع بها وقال ولا أدري أثلاثا قال عرفها أو مرة واحدة |
سنن ابن ماجه |
2506
| اعرف وعاءها ووكاءها وعددها ثم عرفها سنة فإن جاء من يعرفها وإلا فهي كسبيل مالك |
Sunan Abi Dawud Hadith 1701 in Urdu
سويد بن غفلة الجعفي ← أبي بن كعب الأنصاري