علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. باب الرجل يصل الصلوات بوضوء واحد
باب: آدمی ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ، قَالَ مُحَمَّدٌ هُوَ أَبُو أَسَدِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَكُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ".
عمرو بن عامر بجلی (محمد بن عیسیٰ کہتے ہیں: عمرو بن عامر بجلی ابواسد بن عمرو ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم لوگ ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطھارة 54 (214)، سنن الترمذی/الطھارة 44 (60)، سنن النسائی/الطھارة 101 (131)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 72 (509)، (تحفة الأشراف: 1110)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/132، 194، 260، سنن الدارمی/الطھارة 46 (747) (صحیح)»
وضاحت: اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ہر نماز کے لیے تازہ وضو کیا کرتے تھے، تو یہ آپ کا غالب معمول تھا، ورنہ بعض مواقع پر آپ نے بھی ایک ہی وضو سے متعدد نمازیں پڑھی ہیں، جیسا کہ اگلی روایت حدیث ۱۷۲سے بھی واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (214)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥عمرو بن عامر الأنصاري عمرو بن عامر الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← عمرو بن عامر الأنصاري | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥محمد بن عيسى البغدادي، أبو جعفر محمد بن عيسى البغدادي ← شريك بن عبد الله القاضي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
60
| يتوضأ عند كل صلاة نصلي الصلوات كلها بوضوء واحد ما لم نحدث |
سنن أبي داود |
171
| يتوضأ لكل صلاة نصلي الصلوات بوضوء واحد |
سنن ابن ماجه |
509
| يتوضأ لكل صلاة نصلي الصلوات كلها بوضوء واحد |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 171 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 171
توضیح:
اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے تازہ وضو کیا کرتے تھے تو یہ آپ کا غالب معمول تھا ورنہ بعض مواقع پر آپ نے بھی ایک ہی وضو سے متعدد نمازیں پڑھی ہیں جیسا کہ اگلی روایت سے بھی واضح ہے۔
اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے تازہ وضو کیا کرتے تھے تو یہ آپ کا غالب معمول تھا ورنہ بعض مواقع پر آپ نے بھی ایک ہی وضو سے متعدد نمازیں پڑھی ہیں جیسا کہ اگلی روایت سے بھی واضح ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 171]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث509
ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم ساری نماز ایک وضو سے پڑھ لیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 509]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم ساری نماز ایک وضو سے پڑھ لیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 509]
اردو حاشہ:
(1)
ایک نماز کے لیے کیا گیا وضو جب تک باقی ہو نیا وضو کیے بغیردوسری فرض اور نفل نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں۔
(2)
پہلا وضو ٹوٹے بغیر بھی دوسری نماز کے لیے دوبارہ وضو کیا جاسکتا ہے اور یہ طریقہ یعنی وضو پر وضو کرنا افضل ہے البتہ اگر پہلا وضو ٹوٹ جائے تو دوسری نماز کے لیے نیا وضو کرنا ضروری ہے۔ (صحيح البخاري، الوضوء، باب لاتقبل صلاة بغير طهور، حديث: 135 وصحيح مسلم، الطهارة، باب وجوب الطهارة للصلاة، حديث: 224)
(1)
ایک نماز کے لیے کیا گیا وضو جب تک باقی ہو نیا وضو کیے بغیردوسری فرض اور نفل نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں۔
(2)
پہلا وضو ٹوٹے بغیر بھی دوسری نماز کے لیے دوبارہ وضو کیا جاسکتا ہے اور یہ طریقہ یعنی وضو پر وضو کرنا افضل ہے البتہ اگر پہلا وضو ٹوٹ جائے تو دوسری نماز کے لیے نیا وضو کرنا ضروری ہے۔ (صحيح البخاري، الوضوء، باب لاتقبل صلاة بغير طهور، حديث: 135 وصحيح مسلم، الطهارة، باب وجوب الطهارة للصلاة، حديث: 224)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 509]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 60
ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان۔
عمرو بن عامر انصاری کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، میں نے (انس سے) پوچھا: پھر آپ لوگ کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ جب تک ہم «حدث» نہ کرتے ساری نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 60]
عمرو بن عامر انصاری کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، میں نے (انس سے) پوچھا: پھر آپ لوگ کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ جب تک ہم «حدث» نہ کرتے ساری نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 60]
اردو حاشہ:
1؎:
اس حدیث کے رواۃ مدینہ کے لوگ نہیں ہیں بلکہ اہل مشرق (اہل کوفہ اور بصرہ) ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اتنے معتبر نہیں ہیں جتنا اہل مدینہ ہیں۔
نوٹ:
(سند میں عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں،
اور ابو غطیف مجہول ہیں)
1؎:
اس حدیث کے رواۃ مدینہ کے لوگ نہیں ہیں بلکہ اہل مشرق (اہل کوفہ اور بصرہ) ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اتنے معتبر نہیں ہیں جتنا اہل مدینہ ہیں۔
نوٹ:
(سند میں عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں،
اور ابو غطیف مجہول ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 60]
Sunan Abi Dawud Hadith 171 in Urdu
عمرو بن عامر الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري