🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب الكري
باب: حج میں جانوروں کو کرایہ کے لیے لے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1733
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ التَّيْمِيُّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا أُكَرِّي فِي هَذَا الْوَجْهِ وَكَانَ نَاسٌ يَقُولُونَ لِي: إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي رَجُلٌ أُكَرِّي فِي هَذَا الْوَجْهِ وَإِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ لِي إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَلَيْسَ تُحْرِمُ وَتُلَبِّي وَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَتُفِيضُ مِنْ عَرَفَاتٍ وَتَرْمِي الْجِمَارَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ لَكَ حَجًّا، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ، وَقَالَ:" لَكَ حَجٌّ".
ابوامامہ تیمی کہتے ہیں کہ میں لوگوں کو سفر حج میں کرائے پر جانور دیتا تھا، لوگ کہتے تھے کہ تمہارا حج نہیں ہوتا، تو میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور ان سے عرض کیا: ابوعبدالرحمٰن! میں حج میں لوگوں کو جانور کرائے پر دیتا ہوں اور لوگ مجھ سے کہتے ہیں تمہارا حج نہیں ہوتا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم احرام نہیں باندھتے؟ تلبیہ نہیں کہتے؟ بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے؟ عرفات جا کر نہیں لوٹتے؟ رمی جمار نہیں کرتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، تو انہوں نے کہا: تمہارا حج درست ہے، ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ سے اسی طرح کا سوال کیا جو تم نے مجھ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا اور اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آیت کریمہ «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں کہ تم اپنے رب کا فضل ڈھونڈو نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا بھیجا اور اسے یہ آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا: تمہارا حج درست ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1733]
جناب ابوامامہ تیمی بیان کرتے ہیں کہ میں سفر میں کرائے کی سواریاں چلایا کرتا تھا تو بعض لوگوں نے مجھ سے کہا: تیرا حج نہیں ہے۔ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمٰن! میں سفر حج میں کرائے پر سواریاں چلاتا ہوں اور کچھ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تیرا حج نہیں ہے۔ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کیا تم احرام نہیں باندھتے ہو اور تلبیہ نہیں پڑھتے ہو؟ کیا بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے ہو؟ عرفات سے نہیں لوٹتے ہو؟ اور جمرات کو کنکریاں نہیں مارتے ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں (سب کچھ کرتا ہوں)۔ انہوں نے فرمایا: بلاشبہ تیرا حج (صحیح) ہے۔ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تھا اور اس نے بالکل یہی سوال کیا تھا جیسے کہ تم نے مجھ سے کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اس کو جواب نہیں دیا تھا حتیٰ کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 198] تم پر کوئی گناہ (اور حرج) نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلا بھیجا اور اس پر یہ آیت پڑھی اور فرمایا: تیرا حج (صحیح) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8575)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/155) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
صححه ابن خزيمة (3051 وسنده صحيح)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو أمامة التيمي، أبو أمامة، أبو أميمة
Newأبو أمامة التيمي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥العلاء بن المسيب الكاهلي
Newالعلاء بن المسيب الكاهلي ← أبو أمامة التيمي
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← العلاء بن المسيب الكاهلي
ثقة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1733
أكري في هذا الوجه وإن ناسا يقولون لي إنه ليس لك حج فقال ابن عمر أليس تحرم وتلبي وتطوف بالبيت وتفيض من عرفات وترمي الجمار قال قلت بلى قال فإن لك حجا جاء رجل إلى النبي فسأله عن مثل ما سألتني عنه فسكت عنه رسول الله فلم يجبه حتى نزلت هذه الآية ليس عليكم جناح
Sunan Abi Dawud Hadith 1733 in Urdu