پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب الرجل يهل بالحج ثم يجعلها عمرة
باب: آدمی حج کا احرام باندھے پھر اسے عمرہ میں بدل دے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1808
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةٌ، أَوْ لِمَنْ بَعْدَنَا؟ قَالَ:" بَلْ لَكُمْ خَاصَّةٌ".
بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کا (عمرے کے ذریعے) فسخ کرنا ہمارے لیے خاص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ تمہارے لیے خاص ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1808]
حارث بن بلال اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا حج کو فسخ کر دینا ہمارے لیے خاص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ تمہارے ہی لیے خاص ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 77 (2810)، سنن ابن ماجہ/المناسک 42 (2984)، (تحفة الأشراف: 2027)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/369)، سنن الدارمی/المناسک 37 (1897) (ضعیف)» (اس کے راوی حارث لین الحدیث ہیں، اور ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے، اس لئے منکر ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (2984 وسنده حسن) الحارث بن بلال حسن الحديث وثقه الحاكم والذهبي وابن الجارود
أخرجه ابن ماجه (2984 وسنده حسن) الحارث بن بلال حسن الحديث وثقه الحاكم والذهبي وابن الجارود
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2810
| فسخ الحج لنا خاصة أم للناس عامة قال بل لنا خاصة |
سنن أبي داود |
1808
| فسخ الحج لنا خاصة أو لمن بعدنا قال بل لكم خاصة |
سنن ابن ماجه |
2984
| فسخ الحج في العمرة لنا خاصة أم للناس عامة فقال رسول الله بل لنا خاصة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1808 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1808
1808. اردو حاشیہ: یہ حدیث ضعیف ہے،اس لئے قابل استدلال نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1808]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2810
جو شخص ہدی ساتھ نہ لے جائے وہ حج عمرہ میں تبدیل کر کے احرام کھول سکتا ہے۔
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کر دینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے ۱؎۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2810]
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کر دینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے ۱؎۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2810]
اردو حاشہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، لہٰذا حجت نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ موقف درست ہے جو سابقہ صحیح احادیث: 2808، 2809 میں بیان ہوا ہے۔
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، لہٰذا حجت نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ موقف درست ہے جو سابقہ صحیح احادیث: 2808، 2809 میں بیان ہوا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2810]
Sunan Abi Dawud Hadith 1808 in Urdu
الحارث بن بلال المزني ← بلال بن الحارث المزني