🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. باب الخروج إلى منى
باب: مکہ سے منیٰ جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1912
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ فَقَالَ: بِمِنًى، قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ، ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ".
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا: مجھے آپ وہ بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو یاد ہو کہ آپ نے ظہر یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، میں نے عرض کیا تو لوٹنے کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کہاں پڑھی؟ فرمایا: ابطح میں، پھر کہا: تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏* تخريج:صحیح البخاری/الحج 83 (1653)، 146 (1763)، صحیح مسلم/الحج 58 (1308)، سنن الترمذی/الحج 116 (964)، سنن النسائی/الحج 190 (3000)، (تحفة الأشراف: 988)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/100)، سنن الدارمی/المناسک 46 (1914) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اس طرح کے چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں امیر کی مخالفت نہ کرو کیوں کہ ان کی مخالفت بسا اوقات فتنوں اور فساد کا موجب ہوتی ہے، خصوصاً جب کہ امراء ظالم ہوں ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع تو ہر حال میں بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1763) صحيح مسلم (1309)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبد العزيز بن رفيع الأسدي، أبو عبد الله
Newعبد العزيز بن رفيع الأسدي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد العزيز بن رفيع الأسدي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥إسحاق بن يوسف الأزرق، أبو محمد
Newإسحاق بن يوسف الأزرق ← سفيان الثوري
ثقة مأمون
👤←👥أحمد بن إبراهيم الدورقي، أبو عبد الله
Newأحمد بن إبراهيم الدورقي ← إسحاق بن يوسف الأزرق
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3000
أين صلى الظهر يوم التروية قال بمنى أين صلى العصر يوم النفر قال بالأبطح
صحيح البخاري
1763
أين صلى الظهر يوم التروية قال بمنى أين صلى العصر يوم النفر قال بالأبطح افعل كما يفعل أمراؤك
صحيح مسلم
3166
أين صلى الظهر يوم التروية قال بمنى أين صلى العصر يوم النفر قال بالأبطح ثم قال افعل ما يفعل أمراؤك
جامع الترمذي
964
أين صلى الظهر يوم التروية قال بمنى أين صلى العصر يوم النفر قال بالأبطح ثم قال افعل كما يفعل أمراؤك
سنن أبي داود
1912
أين صلى رسول الله الظهر يوم التروية فقال بمنى أين صلى العصر يوم النفر قال بالأبطح
بلوغ المرام
641
صلى الظهر والعصر والمغرب والعشاء،‏‏‏‏ ثم رقد رقدة بالمحصب،‏‏‏‏ ثم ركب إلى البيت،‏‏‏‏ فطاف به
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1912 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1912
1912. اردو حاشیہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ مسائل واجب امور میں سے نہیں ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول اورسنت ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں ہے۔ تاہم کسی عذر کے باعث ان پر عمل نہ ہوسکے تو کوئی حرج نہیں۔مباحات میں اولوالامر کی متابعت اور ان کی مخالفت سے احتراز کیا جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1912]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 641
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بالترتیب اپنے اپنے وقت میں) ظہر اور عصر ‘ مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھیں اور پھر مقام محصب پر تھوڑا سو گئے پھر سوار ہو کر بیت اللہ کی جانب تشریف لے گئے اور طواف کیا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 641]
641لغوی تشریح:
«رقد رقدة» یعنی تھوڑا سا ہو گئے۔
«بالمحصب» یہ اس جگہ کا بیان ہے جہاں آپ نے نمازیں ادا فرمائیں اور اسراحت بھی فرمائی اور یہ کوچ کا آخری دن تھا، یعنی ایام تشریق کا تیسرا دن۔
«محصب» بروزن «محمد» ہے۔ جگہ کا نام ہے جو دو پہاڑوں کے درمیان پھیلی ہوئی ہے۔ وہ بہ نسبت مکہ کے منیٰ کے قریب ہے۔ اسے ابطح اور خیف بنی کنانہ بھی کہتے ہیں۔
«فطاف به» اس سے طواف وداع مراد ہے اور یہ حج کاسب سے آخری طواف ہوتا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 641]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3000
یوم الترویہ کو امام ظہر کہاں پڑھے؟
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، میں نے کہا: آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی چیز بتائیے جو آپ کو یاد ہو، آپ نے ترویہ کے دن ظہر کہاں پڑھی تھی؟ تو انہوں نے کہا: منیٰ میں۔ پھر میں نے پوچھا: کوچ کے دن ۱؎ عصر کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا: ابطح میں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3000]
اردو حاشہ:
(1) یوم ترویہ کے دن منیٰ میں ظہر کی نماز پڑھنا سنت ہے لیکن یہ حج کا فرض نہیں کہ اس کے رہ جانے سے کوئی کفارہ لازم آتا ہو۔ سنت یہ ہے کہ یوم ترویہ کی ظہر سے یوم عرفہ کی صبح تک پانچ نمازیں منیٰ میں پڑھی جائیں لیکن اگر کوئی شخص براہ راست یوم عرفہ (9 ذوالحجہ) منیٰ میں ٹھہرے بغیر عرفات پہنچ جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
(2) منیٰ سے واپسی کے موقع پر ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز ابطح (مکہ مکرمہ سے قریب باہر ایک میدان) میں پڑھنا اور وہاں رات کا۔ کچھ حصہ گزارنا مستحب ہے۔ اس عمل کو تحصیب کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء بھی یہاں پڑاؤ کرتے رہے ہیں اور جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کی نفی منقول ہے، تو اس سے اس کی سنیت یا استحباب کی نفی نہیں بلکہ اس کے لزوم ووجوب کی نفی مراد ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کے رہ جانے سے حج متاثر ہوتا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے: (فتح الباري: 3/ 591)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3000]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3166
عبدالعزیز بن رفیع رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا، مجھے ایسی بات کی روشنی میں بتائیے، جو آپ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) پانی پلانے کے دن نماز ظہر کہاں ادا کی؟ انہوں نے جواب دیا، منیٰ میں، میں نے پوچھا، آپ نے روانگی کے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی؟ جواب دیا، ابطح (محصب) میں، پھر فرمایا، تم اس طرح کرو جس طرح تمہارے امرا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3166]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
طواف افاضہ جسے طواف زیارت اور طواف رکن بھی کہتے ہیں،
جس کے بغیر حج ہی نہ ہو گا اس کا مسنون وقت قربانی کے روز رمی،
قربانی اور حلق یا تقصیر کے بعد ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے روز طواف افاضہ کرنے کے بعد ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی،
جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نماز ظہر مکہ میں پڑھ چکے تھے یا مکہ میں نماز ظہر کے وقت پڑھی جانے والی نماز کی دو رکعتیں تھیں،
پھر منیٰ واپس آ کر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی،
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک طواف افاضۃ کا وقت قربانی کے روز طلوع فجر کے بعد شروع ہو جاتا ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک آخری وقت 12 ذوالحجہ ہے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک 13ذوالحجہ اس کے بعد آ نے کی صورت میں ایک جانور کی قربانی ضروری ہے،
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا دوسرا قول یہ ہے کہ تاخیر پر قربانی ضروری نہیں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ،
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور صاحبین (ابو یوسف و محمد)
کے نزدیک اس کا وقت قربانی کے روز آدھی رات سے شروع ہو جاتا ہے اور اس کے آخری وقت کا تعیین نہیں ہے تاخیر کی وجہ سے اس پر قربانی نہیں ہے لیکن طواف زیارت کے بغیر مکمل طور پر حلال نہیں ہو سکے گا،
اگر وہ وطن طواف زیارت کیے بغیر چلا گیا،
تو احرام باندھ کر واپس آ کر جب چاہے طواف زیارت کرے گا،
آئمہ اربعہ کا یہی موقف ہے حسن بصری کے نزدیک اس کو اگلے سال حج کرنا ہو گا۔
اگر اس طواف زیارت کے بغیر عورت سے تعلقات قائم کر لیے تو اس کے ذمہ دم (قربانی)
کا جانور ہو گا۔
(المغنی لا بن قدامہ ج5،
ص245الدکتور التر کی)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3166]