🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. باب العمرة
باب: عمرے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1991
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اعْتَمَرَ عُمْرَتَيْنِ: عُمْرَةً فِي ذِي الْقِعْدَةِ، وَعُمْرَةً فِي شَوَّالٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور دوسرا شوال میں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1991]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کیے تھے ایک ذوالقعدہ میں اور ایک شوال میں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16889) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے کی مجموعی تعداد کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ ایک سال کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور ایک شوال میں، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ ایک سال کے اندر دو عمرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کیا ہے، اور حج کے ساتھ والے عمرے کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے عمرے ذی قعدہ میں ہوئے ہیں، پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا «عمرۃ فی شوّال» کہنا ان کا وہم ہے، اور اگر اسے محفوظ مان لیا جائے تو اس کی تاویل یہ ہوگی اس عمرہ سے مراد عمرہ جعرانہ ہے جو اگرچہ ذی قعدہ ہی میں ہوا ہے، لیکن مکہ سے حنین کے لئے آپ شوال ہی میں نکلے تھے، اور واپسی پر جعرانہ سے احرام باندھ کر یہ عمرہ کیا تھا تو نکلنے کا لحاظ کرکے انہوں نے اس کی نسبت شوال کی طرف کر دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن قوله في شوال يعني ابتداء وإلا فهي كانت في ذي القعدة أيضا
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه البيھقي في دلائل النبوة (5/455) وصححه ابن الملقن في تحفة المحتاج (1058)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥داود بن عبد الرحمن العبدي، أبو سليمان
Newداود بن عبد الرحمن العبدي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة
👤←👥عبد الأعلى بن حماد الباهلي، أبو يحيى
Newعبد الأعلى بن حماد الباهلي ← داود بن عبد الرحمن العبدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1991
اعتمر عمرتين عمرة في ذي القعدة عمرة في شوال
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1991 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1991
1991. اردو حاشیہ:
➊ صحیح اور درست بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے ہیں۔جیسا کہ صحیحین میں اس کی صراحت موجود ہے۔(صحیح البخاری العمرۃ حدیث 177
➎ 1776 وصحیح مسلم الحج حدیث 1253)مگر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دو عمرے بتانا شاید اسی بنا پر ہے۔کہ آپ نے فعلاً اور بالا استقلال دو عمرے کئے ہیں۔عمرہ حدیبیہ میں آپ کو روک دیا گیا تھا۔اور آپ واپس چلے آئے تھے۔ اور حج والا عمرہ ضمنی عمرہ تھا۔ انہوں نے ان کو شمار نہیں فرمایا۔
➋ شوال میں عمرہ اس معنی میں ہے۔کہ عمرہ جعرانہ کا سفر شوال میں شروع ہوا تھا تو انہوں نے شوال کا زکر کیا ورنہ عملا ً زوالعقدہ میں ادا کیا گیا تھا۔(بزل المجہود]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1991]

Sunan Abi Dawud Hadith 1991 in Urdu