سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. باب في دخول الكعبة
باب: کعبہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2029
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا وَهُوَ مَسْرُورٌ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ كَئِيبٌ، فَقَالَ:" إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا دَخَلْتُهَا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ شَقَقْتُ عَلَى أُمَّتِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے اور آپ خوش تھے پھر میرے پاس آئے اور آپ غمگین تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کعبے کے اندر گیا اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی ۱؎ تو میں اس میں داخل نہ ہوتا، مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا ہے ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2029]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں سے تشریف لے گئے تو بہت مسرور اور خوش تھے۔ پھر میرے ہاں واپس لوٹے تو کسی قدر کبیدہ اور رنجیدہ سے تھے۔ اور فرمایا: ”میں کعبہ میں داخل ہوا ہوں، اگر مجھے اپنے اس معاملے کا پہلے علم ہوتا جو بعد میں معلوم ہوا ہے تو میں اس کے اندر داخل نہ ہوتا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنی امت پر مشقت ڈالی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2029]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 45 (873)، سنن ابن ماجہ/المناسک 79 (3064)، (تحفة الأشراف: 16230)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/137) (ضعیف)» (اس کے راوی اسماعیل کثیرالوہم ہیں)
وضاحت: ۱؎: کہ لوگوں کو کعبہ کے اندر داخل ہونے میں بڑی پریشانیاں اٹھانا پڑیں گی۔
۲؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اندیشہ صحیح ثابت ہوا عوام نے کعبہ کے اندر جانے کو ضروری سمجھ لیا چنانچہ اس کے لئے انہیں بڑی دھکم پیل کرنی پڑتی تھی، اللہ بھلا کرے سعودی حکومت کا جس نے کعبہ کے اندر عام لوگوں کا داخلہ بند کر دیا۔
۲؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اندیشہ صحیح ثابت ہوا عوام نے کعبہ کے اندر جانے کو ضروری سمجھ لیا چنانچہ اس کے لئے انہیں بڑی دھکم پیل کرنی پڑتی تھی، اللہ بھلا کرے سعودی حکومت کا جس نے کعبہ کے اندر عام لوگوں کا داخلہ بند کر دیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (873) ابن ماجه (3064)
إسماعيل بن عبدالملك ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
إسناده ضعيف
ترمذي (873) ابن ماجه (3064)
إسماعيل بن عبدالملك ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
873
| دخلت الكعبة ووددت أني لم أكن فعلت إني أخاف أن أكون أتعبت أمتي من بعدي |
سنن أبي داود |
2029
| دخلت الكعبة ولو استقبلت من أمري ما استدبرت ما دخلتها إني أخاف أن أكون قد شققت على أمتي |
سنن ابن ماجه |
3064
| دخلت الكعبة ووددت أني لم أكن فعلت إني أخاف أن أكون أتعبت أمتي من بعدي |
Sunan Abi Dawud Hadith 2029 in Urdu
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق