🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. باب في المذي
باب: مذی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 210
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً، وَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنَ الِاغْتِسَالِ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ؟ قَالَ: يَكْفِيكَ بِأَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ".
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے مذی سے بڑی تکلیف ہوتی تھی، باربار غسل کرتا تھا، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اس میں صرف وضو کافی ہے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کپڑے میں جو لگ جائے اس کا کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک چلو پانی لے کر کپڑے پر جہاں تم سمجھو کہ مذی لگ گئی ہے چھڑک لو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 210]
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے بہت زیادہ مذی آتی تھی اور اس بنا پر غسل بھی بہت زیادہ کرنا پڑتا تھا، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے تمہیں وضو ہی کافی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور جو میرے کپڑے کو لگ جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تو محسوس کرے کہ کپڑے کو لگی ہے وہاں پانی کا ایک چلو لے کر چھڑک لیا کر، یہی کافی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏أخرجه:سنن ترمذي/كتاب الطهارة/ باب ما جاء فى المذي يصيب الثوب/ ح: 115، سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/ باب: الوضوء من المذي/ ح: 506 من حديث محمد بن إسحاق بن يسار به، وقال الترمذي: ”حسن صحيح“، وصححه ابن حبان ح: 240، (تحفة الأشراف: 4664)، وقد أخرجه: مسند احمد (3/485)، سنن الدارمي/الطهارة 49 (750) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (311)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن حنيف الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو ثابت، أبو الوليد، أبو سعدصحابي
👤←👥عبيد بن السباق الثقفي، أبو سعيد
Newعبيد بن السباق الثقفي ← سهل بن حنيف الأنصاري
ثقة
👤←👥سعيد بن عبيد الثقفي، أبو السباق
Newسعيد بن عبيد الثقفي ← عبيد بن السباق الثقفي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← سعيد بن عبيد الثقفي
صدوق مدلس
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة حجة حافظ
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
115
يكفيك أن تأخذ كفا من ماء فتنضح به ثوبك حيث ترى أنه أصاب منه
سنن أبي داود
210
يكفيك بأن تأخذ كفا من ماء فتنضح بها من ثوبك حيث ترى أنه أصابه
سنن ابن ماجه
506
يكفيك كف من ماء تنضح به من ثوبك حيث ترى أنه أصاب
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 210 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 210
فوائد و مسائل:
➊ اس سے معلوم ہوا کہ مذی کے نکلنے سے وضو تو ٹوٹ جائے گا، لیکن کپڑے کو دھونا ضروری نہیں، بلکہ اس جگہ پر چھینٹے مار لینا ہی کافی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 210]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 115
کپڑے میں مذی لگ جانے کا بیان۔
سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے مذی کی وجہ سے پریشانی اور تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا تھا، میں اس کی وجہ سے کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے کیا اور اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس کے لیے تمہیں وضو کافی ہے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر وہ کپڑے میں لگ جائے تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تو ایک چلو پانی لے اور اسے کپڑے پر جہاں جہاں دیکھے کہ وہ لگی ہے چھڑک لے یہ تمہارے لیے کافی ہو گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 115]
اردو حاشہ:
1؎:
اور یہی راجح ہے کیونکہ حدیث میں ((نَضْحُ)) چھڑکنا ہی آیاہے،
ہاں بطور نظافت کوئی دھولے تو یہ اس کی اپنی پسندہے،
واجب نہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 115]

Sunan Abi Dawud Hadith 210 in Urdu