سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب فيمن تزوج ولم يسم صداقا حتى مات
باب: ایک شخص نے نکاح کیا مہر مقرر نہیں کی اور مر گیا اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2116
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أُتِيَ فِي رَجُلٍ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ:" فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ شَهْرًا، أَوْ قَالَ: مَرَّاتٍ، قَالَ: فَإِنِّي أَقُولُ فِيهَا: إِنَّ لَهَا صَدَاقًا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، وَإِنَّ لَهَا الْمِيرَاثَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ، فَقَامَ نَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ فِيهِمْ الْجَرَّاحُ وَ أَبُو سِنَانٍ، فَقَالُوا: يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، نَحْنُ نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَاهَا فِينَا فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ، وَإِنَّ زَوْجَهَا هِلَالُ بْنُ مُرَّةَ الْأَشْجَعِيُّ كَمَا قَضَيْتَ، قَالَ: فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَرَحًا شَدِيدًا حِينَ وَافَقَ قَضَاؤُهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کا یہی مسئلہ پیش کیا گیا، راوی کا بیان ہے کہ لوگوں کی اس سلسلہ میں مہینہ بھر یا کہا کئی بار آپ کے پاس آمدورفت رہی، انہوں نے کہا: اس سلسلے میں میرا فیصلہ یہی ہے کہ بلا کم و کاست اسے اپنی قوم کی عورتوں کی طرح مہر ملے گا، وہ میراث کی حقدار ہو گی اور اس پر عدت بھی ہو گی، اگر میرا فیصلہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے، اگر غلط ہے تو میری جانب سے اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ اور اللہ کے رسول اس سے بری ہیں، چنانچہ قبیلہ اشجع کے کچھ لوگ جن میں جراح و ابوسنان بھی تھے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ابن مسعود! ہم گواہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں بروع بنت واشق - جن کے شوہر ہلال بن مرہ اشجعی ہیں، کے سلسلہ میں ایسا ہی فیصلہ کیا تھا جو آپ نے کیا ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جب ان کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے موافق ہو گیا تو بڑی خوشی ہوئی۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2116]
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ خبر دی گئی اور پھر وہ لوگ ایک مہینہ تک ان کے پاس چکر لگاتے رہے یا کہا کئی بار ان کے پاس آئے، تو بالآخر انہوں نے کہا: ”میری رائے اس میں یہ ہے کہ یہ عورت مہر کی حقدار ہے جیسے کہ اس طرح کی عورتوں کا حق مہر ہوتا ہے (مہرِ مثل) بغیر کسی کمی بیشی کے، اور یہ میراث کی حقدار ہے اور اس پر عدتِ وفات بھی لازم ہے، اگر میری یہ بات حق اور درست ہے تو اللہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہے تو میری طرف سے ہے اور شیطان کی طرف سے، اللہ اور اس کے رسول دونوں اس سے بری ہیں۔“ چنانچہ قبیلہ اشجع کے لوگ کھڑے ہوئے جن میں جراح اور ابوسنان رضی اللہ عنہما بھی تھے، انہوں نے کہا: ”اے ابن مسعود! ہم گواہی دیتے ہیں کہ یہی فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری ایک عورت بروع بنت واشق اور اس کے شوہر ہلال بن مرہ اشجعی کے بارے میں فرمایا تھا، جیسے کہ آپ نے کیا ہے۔“ راوی نے بیان کیا کہ اس سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بے حد خوشی ہوئی کہ ان کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3205)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/430، 431، 447، 448) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شاھد صحيح عند ابن حبان (4089/4101) والحاكم (2/ 180 ح 2737) وغيرھما
وللحديث شاھد صحيح عند ابن حبان (4089/4101) والحاكم (2/ 180 ح 2737) وغيرھما
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2116 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2116
فوائد ومسائل:
1: ہر مسلمان کو اپنے اہم مسائل میں باوثوق علماء کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور عالم پر بھی لازم ہے کہ فتوی دینے اور فیصلہ کرنے سے پہلے خوب غور وخوض کر لے اور جہاں تک ہوسکے اپنی رائے کا فیصلہ نہ دے اگر دے تو اس کے احتمال وصواب کا یقین رکھے۔
2: انسان قرآن وسنت کو اپنا رہنما بنالے تو اللہ عزوجل مشکل مسائل میں اس کی رہنمائی فرماتا ہے اور حضرت عبداللہ مسعودرضی اللہ اور تمام اجلہ صحابہ کرام، فقہائے اسلام امت مسلمہ کے سلف صالح ہیں۔
3: نکاح کے وقت اگر حق مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو نکاح صحیح ہے۔
مگر مہر مثل لازم آئے گا۔
4: ایسی عورت جس سے اس کے شوہر کا ملاپ نہ ہو، شوہر کی وفات پر عدت وفات پوری کرے، شوہر کے حق واحترام میں نہ کہ حمل کے شبہ میں۔
1: ہر مسلمان کو اپنے اہم مسائل میں باوثوق علماء کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور عالم پر بھی لازم ہے کہ فتوی دینے اور فیصلہ کرنے سے پہلے خوب غور وخوض کر لے اور جہاں تک ہوسکے اپنی رائے کا فیصلہ نہ دے اگر دے تو اس کے احتمال وصواب کا یقین رکھے۔
2: انسان قرآن وسنت کو اپنا رہنما بنالے تو اللہ عزوجل مشکل مسائل میں اس کی رہنمائی فرماتا ہے اور حضرت عبداللہ مسعودرضی اللہ اور تمام اجلہ صحابہ کرام، فقہائے اسلام امت مسلمہ کے سلف صالح ہیں۔
3: نکاح کے وقت اگر حق مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو نکاح صحیح ہے۔
مگر مہر مثل لازم آئے گا۔
4: ایسی عورت جس سے اس کے شوہر کا ملاپ نہ ہو، شوہر کی وفات پر عدت وفات پوری کرے، شوہر کے حق واحترام میں نہ کہ حمل کے شبہ میں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2116]
Sunan Abi Dawud Hadith 2116 in Urdu
الجراح بن أبي الجراح الأشجعي ← معقل بن سنان الأشجعي