سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب في الخلع
باب: خلع کا بیان۔
حدیث نمبر: 2228
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو السَّدُوسِيُّ الْمَدِينِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ كَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، فَضَرَبَهَا فَكَسَرَ بَعْضَهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الصُّبْحِ فَاشْتَكَتْهُ إِلَيْهِ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَابِتًا، فَقَالَ:" خُذْ بَعْضَ مَالِهَا وَفَارِقْهَا"، فَقَالَ: وَيَصْلُحُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَإِنِّي أَصْدَقْتُهَا حَدِيقَتَيْنِ، وَهُمَا بِيَدِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْهُمَا فَفَارِقْهَا"، فَفَعَلَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو ان کو ان کے شوہر نے اتنا مارا کہ کوئی عضو ٹوٹ گیا، وہ فجر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو بلوایا، اور کہا کہ تم اس سے کچھ مال لے کر اس سے الگ ہو جاؤ، ثابت نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسا کرنا درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، وہ بولے، میں نے اسے دو باغ مہر میں دیئے ہیں یہ ابھی بھی اس کے پاس موجود ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں لے لو اور اس سے جدا ہو جاؤ“، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2228]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا، سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھی تو ثابت رضی اللہ عنہ نے اس کو مارا اور اس کا کچھ توڑ بھی دیا، تب وہ فجر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور شوہر کی شکایت کی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اس سے کچھ مال لے لو اور اس کو علیحدہ کر دو۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا یہ صحیح ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”میں نے اس کو مہر میں دو باغ دیے ہیں اور وہ اسی کے قبضے میں ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں لے لو اور اسے علیحدہ کر دو۔“ چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17903) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2228
| خذ بعض مالها وفارقها فقال ويصلح ذلك يا رسول الله قال نعم قال فإني أصدقتها حديقتين وهما بيدها فقال النبي خذهما ففارقها ففعل |
Sunan Abi Dawud Hadith 2228 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق