🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب إذا أسلم أحد الزوجين
باب: میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2239
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَتْ، فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي، فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت مسلمان ہو گئی اور اس نے نکاح بھی کر لیا، اس کے بعد اس کا شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اسلام لے آیا تھا اور اسے میرے اسلام لانے کا علم تھا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شوہر سے اسے چھین کر اس کے پہلے شوہر کو لوٹا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2239]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6107) (ضعیف) (سابقہ حدیث دیکھئے)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2238)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← عكرمة مولى ابن عباس
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد
Newمحمد بن عبد الله الزبيرى ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← محمد بن عبد الله الزبيرى
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2239
أسلمت امرأة على عهد رسول الله فتزوجت فجاء زوجها إلى النبي فقال يا رسول الله إني قد كنت أسلمت وعلمت بإسلامي فانتزعها رسول الله من زوجها الآخر وردها إلى زوجها الأول
سنن ابن ماجه
2008
أسلمت فتزوجها رجل قال فجاء زوجها الأول فقال يا رسول الله إني قد كنت أسلمت معها وعلمت بإسلامي قال فانتزعها رسول الله من زوجها الآخر وردها إلى زوجها الأول
بلوغ المرام
863
زوجها الآخر،‏‏‏‏ وردها إلى زوجها الاول
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2239 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2239
فوائد ومسائل:

روایت سنداًضعیف ہے تاہم مسئلہ یہی ہے کہ زوجین میں سے کسی ایک کے اسلام قبول کرنے سے تفریق ہوجاتی ہے۔
لیکن اگر عدت کے دوران میں شوہر بھی مسلمان ہوجائےتو وہ عورت اسی خاوند کی زوجیت میں رہے گی۔
بعد ازاں اگر وہ اپنے سابقہ شوہر کا انتظار نہ کرے تو کسی مسلمان سے نکاح کرلینے میں حق بجانب ہے۔
لیکن اگر وہ انتظار کرے حتی کہ وہ مسلمان ہو جائےخواہ مدت طویل ہی ہوجائےتوکوئی حرج نہیں۔
جیسے کہ درج ذیل باب اور حدیث میں آرہا ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2239]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 863
کفو (مثل، نظیر اور ہمسری) اور اختیار کا بیان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اسلام قبول کیا۔ پھر نکاح بھی کر لیا اتنے میں اس کا پہلا خاوند آ گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے اسلام قبول کر لیا تھا میرے قبول اسلام کا اسے علم بھی تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (عورت) کو اس (دوسرے شوہر) سے چھین کر پہلے خاوند کی طرف اسے لوٹا دیا۔ اسے احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 863»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الطلاق، باب إذا أسلم أحد الزوجين، حديث:2239، وابن ماجه، النكاح، حديث:2008، وأحمد:1 /364، وابن حبان (الإحسان):6 /182، حديث:4147، والحاكم:2 /200 وصححه، ووافقه الذهبي.* سماك عن عكرمة، سلسلة ضعيفة.»
تشریح:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم مسئلہ یہی ہے کہ اختلاف دین کی وجہ سے جب میاں بیوی کے درمیان جدائی اور علیحدگی واقع ہو جائے کہ عورت اسلام قبول کر لے‘ پھر عورت کے ایام عدت میں مرد بھی مسلمان ہو جائے اور اس عورت کو مرد کے قبول اسلام کا علم بھی ہوگیا ہو تو ایسی صورت میں وہ دوسری جگہ نکاح کرنے کی قطعاً مجاز نہیں‘ اگر کرے گی تو نکاح باطل قرار دیا جائے گا۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 863]