الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب من أحق بالولد
باب: بچے کی پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے؟
حدیث نمبر: 2276
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً، وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي وَأَرَادَ أَنْ يَنْتَزِعَهُ مِنِّي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کا گھر رہا، میری چھاتی اس کے پینے کا برتن بنی، میری گود اس کا ٹھکانہ بنی، اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک تو (دوسرا) نکاح نہیں کر لیتی اس کی تو ہی زیادہ حقدار ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8741)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/182، 203) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3378)
الوليد بن مسلم صرح بالسماع وللحديث طرق أخريٰ عن عمرو بن شعيب عند أحمد (2/182، 203) وغيره
مشكوة المصابيح (3378)
الوليد بن مسلم صرح بالسماع وللحديث طرق أخريٰ عن عمرو بن شعيب عند أحمد (2/182، 203) وغيره
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2276
| أنت أحق به ما لم تنكحي |
بلوغ المرام |
987
| أنت أحق به ما لم تنكحي |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2276 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2276
فوائد ومسائل:
یہ صحیح دلیل ہے کہ ماں جب تک نکاح نہ کرے وہ باپ کی نسبت بچے کی زیادہ حقدار ہے اور بعد ازنکاح بھی اگر شوہر راضی ہو تو اپنے پاس رکھ سکتی ہے۔
لیکن اگر وہ راضی نہ ہوتو باپ کو دیا جائے گا۔
یہ صحیح دلیل ہے کہ ماں جب تک نکاح نہ کرے وہ باپ کی نسبت بچے کی زیادہ حقدار ہے اور بعد ازنکاح بھی اگر شوہر راضی ہو تو اپنے پاس رکھ سکتی ہے۔
لیکن اگر وہ راضی نہ ہوتو باپ کو دیا جائے گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2276]
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي