🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب في نفقة المبتوتة
باب: تین طلاق دی ہوئی عورت کے نفقہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2285
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ فِيهِ. وَأَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَنَفَرًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، وَإِنَّهُ تَرَكَ لَهَا نَفَقَةً يَسِيرَةً، فَقَالَ:" لَا نَفَقَةَ لَهَا"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ. وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَتَمُّ.
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ ابو حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور بنی مخزوم کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ابو حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے دی ہیں، اور اسے معمولی نفقہ (خرچ) دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے نفقہ نہیں ہے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، یہ مالک کی روایت زیادہ کامل ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8038) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ تین طلاق دی ہوئی عورت کے لئے نہ نفقہ ہے، اور نہ سکنی (رہائش)، نفقہ و سکنی رجعی طلاق میں ہے، اس امید میں کہ شاید شوہر کے دل کے اندر رجوع کی بات پیدا ہو جائے، اور رجوع کر لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥فاطمة بنت قيس الفهريةصحابية
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← فاطمة بنت قيس الفهرية
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥أبان بن يزيد العطار، أبو يزيد
Newأبان بن يزيد العطار ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← أبان بن يزيد العطار
ثقة ثبت
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2285 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2285
فوائد ومسائل:
1: حضرت فاطمہ کو یہ طلاقیں وقفے وقفے سے دی گئی تھیں نہ کہ اکٹھی جیسے کہ اگلی حدیث 6689 میں آرہا ہے۔

2: مطلقہ کو ہدیہ وتحفہ دینا ایک مستحب کا م ہے جس کی تاکید آئی ہے (الاحزاب:29) اور تین طلاق والی کے لئے کوئی نفقہ وسکنی واجب نہیں ہے الا یہ کہ حاملہ ہو۔

3: عورت کے لئے مرد کو دیکھنا ممنوع نہیں ہے (بشرطیکہ شہوت سے نہ ہو) اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارنے کا حکم دیا تا کہ وہ مردوں کی نظروں سے محفوظ رہے کیو نکہ مردوں کے لئے عورت کو دیکھنا ممنوع ہے اور ابن ام مکتوم بینائی ہی سے محروم تھے۔

4: نکاح کا پیغام دینے والے کے لئے دینی، دنیاوی اور اخلاقی احوال کا جائزہ لے کر ہی اسے قبول کیا جا ناچاہیے۔

5: شرعی ضرورت سے کسی کا عیب بیان کرنا ایسی غیبت نہیں جوحرام ہو،
6: دین دار رشتوں میں اللہ کی طرف سے بہت برکت ہوتی ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2285]

Sunan Abi Dawud Hadith 2285 in Urdu