🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب في شهادة الواحد على رؤية هلال رمضان
باب: رمضان کے چاند کی رویت کے لیے ایک شخص کی گواہی کافی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2341
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ،" أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي هِلَالِ رَمَضَانَ مَرَّةً، فَأَرَادُوا أَنْ لَا يَقُومُوا وَلَا يَصُومُوا، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ الْحَرَّةِ، فَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأَمَرَ بِلَالًا، فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ يَقُومُوا وَأَنْ يَصُومُوا". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، مُرْسَلًا. وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِيَامَ أَحَدٌ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک بار لوگوں کو رمضان کے چاند (کی روئیت) سے متعلق شک ہوا اور انہوں نے یہ ارادہ کر لیا کہ نہ تو تراویح پڑھیں گے اور نہ روزے رکھیں گے، اتنے میں مقام حرہ سے ایک اعرابی آ گیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی چنانچہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا، آپ نے اس سے سوال کیا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، اور چاند دیکھنے کی گواہی بھی دی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں منادی کر دیں کہ لوگ تراویح پڑھیں اور روزہ رکھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ایک جماعت نے سماک سے اور انہوں نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے تراویح پڑھنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2341]
عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایک بار رمضان کے چاند میں شک ہو گیا۔ پس انہوں نے ارادہ کیا کہ نہ قیام کریں اور نہ روزہ رکھیں۔ تو حرہ کی طرف سے ایک اعرابی آیا، اس نے گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں کی گواہی دیتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں اور شہادت دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ رات کو قیام کریں اور (صبح کو) روزہ رکھیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو ایک جماعت نے بواسطہ سماک، عکرمہ رحمہ اللہ سے مرسل روایت کیا ہے اور قیام کا ذکر حماد بن سلمہ رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6104، 19113) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (5112،2116)
السند مرسل مع ضعفه
انظر الحديث السابق (2340)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد اللهثقة
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← عكرمة مولى ابن عباس
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← سماك بن حرب الذهلي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2341
أتشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله قال نعم وشهد أنه رأى الهلال فأمر بلالا فنادى في الناس أن يقوموا وأن يصوموا
Sunan Abi Dawud Hadith 2341 in Urdu