🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب فيمن أصبح جنبا في شهر رمضان
باب: رمضان میں جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2388
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَذْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمَا قَالَتَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصْبِحُ جُنُبًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ الْأَذْرَمِيُّ فِي حَدِيثِهِ: فِي رَمَضَانَ مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَمَا أَقَلَّ مَنْ يَقُولُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ يَعْنِي يُصْبِحُ جُنُبًا فِي رَمَضَانَ، وَإِنَّمَا الْحَدِيثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصْبِحُ جُنُبًا وَهُوَ صَائِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں صبح کرتے۔ عبداللہ اذرمی کی روایت میں ہے: ایسا رمضان میں احتلام سے نہیں بلکہ جماع سے ہوتا تھا، پھر آپ روزہ سے رہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کتنی کم تر ہے اس شخص کی بات جو یہ یعنی «يصبح جنبا في رمضان» کہتا ہے، حدیث تو (جو کہ بہت سے طرق سے مروی ہے) یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہو کر صبح کرتے تھے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 22(1925)، صحیح مسلم/الصیام 13 (1109)، سنن الترمذی/الصوم 63 (779)، سنن ابن ماجہ/الصیام 27(1703)، (تحفة الأشراف: 17696، 18228، 18190، 18192)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام 4(10)، مسند احمد (1/211، 6/34، 36، 38، 203، 213، 216، 229، 266، 278، 289، 290، 308)، سنن الدارمی/الصوم 22 (1766) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اس میں لفظ رمضان کا ذکر نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1109)
وللحديث لون آخر عند البخاري (1925، 1926)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← أم سلمة زوج النبي
صحابي
👤←👥أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي، أبو بكر، أبو عبد الرحمن
Newأبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عبد ربه بن سعيد الأنصاري
Newعبد ربه بن سعيد الأنصاري ← أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد ربه بن سعيد الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥عبد الله بن محمد الأذرمى، أبو عثمان، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن محمد الأذرمى ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن محمد الأذرمى
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1931
يصبح جنبا من جماع غير احتلام ثم يصومه
صحيح مسلم
2589
يصبح جنبا من غير حلم ثم يصوم
صحيح مسلم
2592
يصبح جنبا من جماع غير احتلام في رمضان ثم يصوم
جامع الترمذي
779
يدركه الفجر وهو جنب من أهله ثم يغتسل يصوم
سنن أبي داود
2388
يصبح جنبا في رمضان من جماع غير احتلام ثم يصوم
المعجم الصغير للطبراني
26
يخرج إلى صلاة الغداة ورأسه يقطر من الغسل ، ثم يصبح صائما
المعجم الصغير للطبراني
113
يصبح جنبا من غير احتلام ، ثم يغتسل ، ويصوم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2388 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2388
فوائد ومسائل:
فجر صادق کی ابتدائی ساعات میں انسان اگر جنابت کی حالت میں روزے کی ابتدا کرے تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے کہ بروقت غسل کر کے نماز میں شریک ہو جائے مگر بلا عذر شرعی اپنی اس کیفیت کو طول دینا ناجائز اور روزے میں عیب ہے۔
مرد اور عورت دونوں کے لیے یہی مسئلہ ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2388]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 779
جنبی کو فجر پا لے اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہو تو کیا حکم ہے۔
ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر پا لیتی اور اپنی بیویوں سے صحبت کی وجہ سے حالت جنابت میں ہوتے پھر آپ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 779]
اردو حاشہ:
1؎:
ام المومنین عائشہ اور ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث ابو ہریرہ کی حدیث ((مَنْ أَصْبَحَ جُنُبََا فَلَا صَوْمَ لَه)) کے معارض ہے،
اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ عائشہ اور
ام سلمہ کی حدیث کو ابو ہریرہ کی حدیث پر ترجیح حاصل ہے کیونکہ یہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہیں اور بیویاں اپنے شوہروں کے حالات سے زیادہ واقفیت رکھتی ہیں،
دوسرے ابو ہریرہ تنہا ہیں اور یہ دو ہیں اور دو کی روایت کو اکیلے کی روایت پر ترجیح دی جائے گی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 779]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2589
ابوبکر بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اپنی روایات کے بیان میں، میں نے یہ روایت بھی سنی کہ جس کو فجر جنابت کی حالت میں پا لے وہ روزہ نہ رکھے، میں نے یہ بات اپنے باپ عبدالرحمان بن حارث کو بتائی انہوں نے اس کا انکار کیا، تو عبدالرحمان چلے اور میں بھی ساتھ تھا حتی کہ ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور عبدالرحمٰن نے ان دونوں سے یہ مسئلہ پوچھا: تو دونوں نے فرمایا کہ رسول... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2589]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ایک انسان بیوی سے تعلقات قائم کرتا ہے لیکن غسل طلوع فجر کے بعد نماز کے لیے کرتا ہے اور روزہ جنابت کی حالت میں ہی رکھ لیتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں اور تنگی نہیں ہے جمہور آئمہ اربعہ کا موقف یہی ہے۔
آیت مبارکہ:
﴿فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ﴾ اور احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہوتی ہے اور حضرت فضل کی حدیث کا تعلق یا تو ابتدائی دور سے ہے جبکہ رات کو تعلقات زن و شوہردرست نہ تھے بعد میں تعلقات کی اجازت مل گئی تو اس حالت میں روزہ رکھنا بھی درست ٹھہرایا،
اس کا یہ مقصد ہے کہ بہتر اور افضل صورت یہی ہے کہ روزہ رکھنے سے پہلے غسل کر لے تاکہ غفلت وکاہلی دور ہو جائے اور آسانی کے ساتھ جامعت کے ساتھ مل سکے یا یہ مقصد ہو کہ وہ طلوع فجر تک تعلقات میں مشغول رہا طلوع فجر کے بعد فارغ ہوا جبکہ روزہ کا وقت نکل رہا تھا اور بعض حضرات کا خیال ہے کہ حدیث فضل کا تعلق اس انسان سے ہے جس نے عمداً غسل نہیں کیا حالانکہ وہ غسل کر سکتا تھا اگر اٹھا ہی دیر سے ہے وقت غسل نہیں ہے۔
تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔
اور بعض حضرات کے نزدیک نفل روزہ درست ہے اور فرض درست نہیں ہے بعض کے نزدیک دونوں میں درست نہیں بعض کے نزدیک روزہ رکھے گا۔
لیکن قضائی دینی ہو گی بعض کے نزدیک فرض کی صورت میں قضائی ہے نفل کی صورت میں نہیں اور صحیح موقف جمہور کا ہے کیونکہ قرآن و حدیث دونوں اس کے مؤید ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2589]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2592
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں جماع سے نہ کہ احتلام سے صبح جنبی اٹھتے پھر روزہ رکھ لیتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2592]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہو گئی ہے جو کہتے ہیں نفل روزہ رکھنا جائز ہے فرض رکھنا جائز نہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2592]