🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب النهى أن يخص يوم السبت بصوم
باب: سنیچر کے دن کو روزہ کے لیے خاص کرنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2421
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ. ح وحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ قُبَيْسٍ مِنْ أَهْلِ جَبَلَة، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، جَمِيعًا عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ أُخْتِهِ، وَقَالَ يَزِيدُ الصَّمَّاءِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِي مَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ عِنَبَةٍ أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضَغْهُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثٌ مَنْسُوخٌ.
عبداللہ بن بسر سلمی مازنی رضی اللہ عنہما اپنی بہن مّاء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرض روزے کے علاوہ کوئی روزہ سنیچر (ہفتے) کے دن نہ رکھو اگر تم میں سے کسی کو (اس دن کا نفلی روزہ توڑنے کے لیے) کچھ نہ ملے تو انگور کا چھلکہ یا درخت کی لکڑی ہی چبا لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ منسوخ حدیث ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2421]
عبداللہ بن بسر سلمی رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ صماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہفتے کے دن کا روزہ نہ رکھو، سوائے ان ایام کے جن میں تم پر یہ فرض ہوں۔ ہفتے کے دن اگر تمہیں انگور کی شاخ کا چھلکا میسر آئے یا کسی درخت کی لکڑی تو اسے ہی چبا لو۔ (اپنے آپ کو بے روزہ بنا لو۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث منسوخ ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: عبداللہ بن بسر، حمصی ہیں اور یہ حدیث منسوخ ہے۔ اس کو سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کی حدیث نے (جو آگے آ رہی ہے) منسوخ کر دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصوم 43 (744)، سنن ابن ماجہ/الصیام 38 (1726)، (تحفة الأشراف: 15910، 18964، 19250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/368)، سنن الدارمی/الصوم 40 (1790) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، اور اس میں کراہت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی سنیچر کو روزہ کے لئے مخصوص کر دے، کیونکہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، اس تأویل کی صورت میں امام ابوداود کا اسے منسوخ کہنا درست نہیں ہے، اور کسی صورت میں اس حدیث میں اور اگلے باب کی حدیث (اور اس دن کے صیام نبوی کی احادیث) میں کوئی تعارض نہیں باقی رہ جاتا، کہ روزہ رکھنے کی صورت میں اس دن کو مخصوص نہیں کیا گیا، (ملاحظہ ہو: تہذیب السنن لابن القیم ۳؍ ۲۹۷- ۳۰۱، و زاد المعاد۱؍۲۳۷- ۲۳۸، وصحیح ابی داود ۷؍۱۸۰)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2063)
أخرجه الترمذي (744 وسنده صحيح) وابن ماجه (1726 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نهيمه بنت بسر المازنيةصحابي
👤←👥عبد الله بن بسر النصري، أبو صفوان، أبو بسر
Newعبد الله بن بسر النصري ← نهيمه بنت بسر المازنية
صحابي
👤←👥خالد بن معدان الكلاعي، أبو عبد الله
Newخالد بن معدان الكلاعي ← عبد الله بن بسر النصري
ثقة
👤←👥ثور بن يزيد الرحبي، أبو خالد
Newثور بن يزيد الرحبي ← خالد بن معدان الكلاعي
ثقة ثبت إلا أنه يرى القدر
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← ثور بن يزيد الرحبي
ثقة
👤←👥يزيد بن قبيس السيلحي، أبو خالد، أبو سهل
Newيزيد بن قبيس السيلحي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥سفيان بن حبيب البصري، أبو محمد، أبو حبيب، أبو معاوية
Newسفيان بن حبيب البصري ← يزيد بن قبيس السيلحي
ثقة
👤←👥حميد بن مسعدة السامي، أبو علي، أبو العباس
Newحميد بن مسعدة السامي ← سفيان بن حبيب البصري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
744
لا تصوموا يوم السبت إلا فيما افترض الله عليكم فإن لم يجد أحدكم إلا لحاء عنبة أو عود شجرة فليمضغه
سنن أبي داود
2421
لا تصوموا يوم السبت إلا في ما افترض عليكم وإن لم يجد أحدكم إلا لحاء عنبة أو عود شجرة فليمضغه
بلوغ المرام
564
ا تصوموا يوم السبت إلا فيما افترض عليكم فإن لم يجد احدكم إلا لحاء عنب او عود شجرة فليمضغها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2421 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2421
فوائد ومسائل:
ہفتے کا دن یہودیوں کی عبادت کا دن ہے اور ہمیں ان کی مخالفت کا حکم ہے، لہذا آگے پیچھے کے دن ساتھ مل جائیں یا ملا لیے جائں تو کوئی حرج نہیں، مثلا ایام بیض، ایام عاشورا وغیرہ لیکن اگر قضا یا نذر کا روزہ ہو یا یوم عرفہ ہفتے کا دن میں پڑ رہا ہو یا کوئی صوم داود کا عامل ہو تو ہفتے کے دن کا روزہ مباح ہو گا۔
کیونکہ یہ تخصیص نہیں۔
امام ابوداود کا اس حدیث کو منسوخ کہنے سے مراد، بقول علامہ البانی رحمة اللہ علیہ، شاید ابن حبان اور حاکم کی یہ روایت ہو جناب کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ کو حضرت ابن عباس اور چند دیگر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا کہ ان سے پوچھ کر آؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر کن دنوں میں روزے رکھتے تھے۔
انہوں نے جواب دیا کہ ہفتے اور اتوار کو۔
میں یہ جواب لے کر ان حضرات کی خدمت میں پہنچا اور انہیں بتایا تو انہوں نے اس پر (تعجب آمیز) انکار کیا۔
اور پھر وہ سبھی ام المومنین کی خدمت میں چلے گئے اور ان سے کہا: ہم نے آپ سے یہ یہ پچھوایا تھا اور آپ نے یوں یوں جواب دیا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس نے سچ کہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہفتے اور اتوار کے دنوں میں اکثر روزہ رکھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ مشرکین کے عید کے دن ہیں اور میں ان کی مخالفت کرنا چاہتا ہوں۔
امام حاکم نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے اور ذہبی نے بھی ان کی موافقت کی ہے مگر علامہ عبدالحق الاشبیلی رحمة اللہ علیہ نے الاحکام الوسطیٰ میں اس کی سند کو ضعیف کہا ہے اور علامہ البانی رحمة اللہ علیہ نے ابھی اسے ہی ترجیح دی ہے۔
(ارواء الغلیل، حدیث:960) الغرض حدیث صحیح اور محکم ہے منسوخ نہیں اور عنوان باب ہی سےسب اشکالات ختم ہو جاتے ہیں، یعنی اس دن کو خاص کرنا جائز نہیں، جمعے یا اتوار کا دن ساتھ ملا لینا ضروری ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2421]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 564
نفلی روزے اور جن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے
سیدہ صماء بنت بسر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہفتہ کے دن کا روزہ نہ رکھو۔ سوائے اس روزہ کے جو تم پر فرض کیا گیا ہے۔ پس اگر تم میں سے کوئی انگور کا چھلکا یا کسی درخت کا تنکا پائے تو چاہیئے کہ اس کو کھا لے۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں مگر اس میں اضطراب ہے۔ بیشک امام مالک رحمہ اللہ نے اس کا انکار کیا ہے اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ یہ منسوخ ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 564]
564 لغوی تشریح:
«لِحَاءَ عِنَبٍ» کے لام پر فتحہ اور کسرہ دونوں جائز ہیں اور آخر میں مد ہے۔ اس کے معنی ہیں: چھلکا۔ اور «العنب» کی عین کے نیچے زیر اور نون پر فتحہ ہے۔ مشہور پھل انگور کو عنب کہتے ہیں۔
«فَلْيَمُضَغْهَا» یہ باب «نَصَرَا» اور «فَتَحَ» دنوں سے آتا ہے، یعنی اسے کھا لے اور اس سے روزہ توڑ لے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ کہ ہفتے کے دن روزے کی یہ ممانعت اس لیے ہے کہ یہود ہفتے کے دن کی تعظیم کرتے تھے۔ اور اس کی تائید آئندہ حدیث سے بھی ہوتی ہے۔

راوی حدیث:
حضرت صماء بنت بسر رضی اللہ عنہ، «صماء» میں صاد پر زبر اور میم مشدد ہے۔ ان کا «بُهَيَّه» تھا اور «بهيه» کی با پر پیش ہا مفتوح اور یا مشدد ہے۔ اور ایک قول کے مطابق ان کا نام «بُهَيْمَه» (میم کے اضافے کے ساتھ) تھا۔ بسر کی با پر پیش اور را ساکن ہے۔ قبیلہ مازن سے تعلق رکھتی تھیں، صحابیہ تھیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ عبداللہ بن بسر کی بہن تھیں اور بعض نے پھوپھی اور بعض نے خالہ کہا ہے۔ ٭
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 564]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 744
ہفتہ (سنیچر) کے دن کے روزہ کا بیان۔
عبداللہ بن بسر کی بہن بہیہ صمّاء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہفتہ کے دن روزہ مت رکھو ۱؎، سوائے اس کے کہ جو اللہ نے تم پر فرض کیا ہو، اگر تم میں سے کوئی انگور کی چھال اور درخت کی ٹہنی کے علاوہ کچھ نہ پائے تو اسی کو چبا لے (اور روزہ نہ رکھے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 744]
اردو حاشہ:
1؎:
جمہور نے اسے نہی تنزیہی پر محمول کیا ہے یعنی روزہ نہ رکھنا بہتر ہے،
سوائے اس کے کہ اللہ نے تم پر فرض کیا ہو کے لفظ میں فرض نذر کے کفاروں کے روزے شامل ہیں۔
نوٹ:
(اس کی سند میں تھوڑا کلام ہے،
دیکھئے:
الإرواء رقم: 960)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 744]

Sunan Abi Dawud Hadith 2421 in Urdu