🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. باب في صوم الثلاث من كل شهر
باب: ہر مہینے تین روزے رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2449
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ أَنَسٍ أَخِي مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ مِلْحَانَ الْقَيْسِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا أَنْ نَصُومَ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ". قَالَ: وَقَالَ: هُنَّ كَهَيْئَةِ الدَّهْرِ.
قتادہ بن ملحان قیسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایام بیض یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخوں میں روزے رکھنے کا حکم فرماتے، اور فرماتے: یہ پورے سال روزے رکھنے کے مثل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2449]
ابن ملحان قیسی (عبدالملک بن قتادہ) اپنے والد (قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے فرمایا کرتے تھے کہ ہم «أَيَّام الْبِيضِ» ایامِ بیض یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ روزے ایسے ہیں گویا سارے زمانے کے روزے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الصیام 51 (2434)، سنن ابن ماجہ/الصیام 29 (1707)، (تحفة الأشراف: 11071)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/165، 5/27، 28) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2432-2434) ابن ماجه (1707)
ابن ملحان : عبدالملك بن قتادة مستور،لم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 90

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥قتادة بن ملحان القيسيصحابي
👤←👥عبد الملك بن قدامة القيسي
Newعبد الملك بن قدامة القيسي ← قتادة بن ملحان القيسي
مقبول
👤←👥أنس بن سيرين الأنصاري، أبو موسى، أبو عبد الله، أبو حمزة
Newأنس بن سيرين الأنصاري ← عبد الملك بن قدامة القيسي
ثقة
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← أنس بن سيرين الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2449
يأمرنا أن نصوم البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة
سنن ابن ماجه
1707
بصيام البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة ويقول هو كصوم الدهر
سنن النسائى الصغرى
2432
يأمر بهذه الأيام الثلاث البيض ويقول هن صيام الشهر
سنن النسائى الصغرى
2433
بصيام ثلاثة أيام البيض قال هي صوم الشهر
سنن النسائى الصغرى
2434
يأمرنا بصوم أيام الليالي الغر البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2449 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2449
فوائد ومسائل:
تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے ایام کو ایام بیض (سفید راتوں کے دن) اس لحاظ سے کہا جاتا ہے کہ ان راتوں میں چاند تقریبا ساری رات چمکتا ہے۔
ان دنوں کے روزوں میں تفاؤل یہ ہے کہ جس طرح ان راتوں کا اندھیرا اجالے سے بدلا ہوا ہوتا ہے، ایسے ہی اللہ عزوجل روزے دار کی سیاہ کاریوں کو سفیدی اور چمک سے بدل دے گا۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ترغیب و تشویش کے معنی میں ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2449]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2434
ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے والی حدیث کے سلسلہ میں موسیٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
قدامہ (قتادہ بن ملحان) بن ملحان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روشن چاندنی راتوں کے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2434]
اردو حاشہ:
(1) یہ تینوں روایات ایک ہی صاحب بیان فرماتے ہیں، البتہ ان کے والد کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ علاوہ ازیں یہ تینوں روایات سنداً ضعیف اور معناً صحیح ہیں۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے مذکورہ تینوں روایات کو حسن قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (إرواء الغلیل: 4/ 101،102۔ رقم الحدیث: 947، وصحیح سنن النسائي: 2/ 170، 171 رقم: 2423، 2425، 2425)
(2) حکم ہمیشہ وجوب کے لیے نہیں ہوتا، قرائن ساتھ دیں تو حکم استحباب یا جواز کے لیے بھی ہوتا ہے، جیسے قرآن کریم میں ارشاد ہے: ﴿وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا﴾  (المائدة: 5: 2) جب احرام کھول لو تو شکار کرو۔ ﴿فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الأرْضِ﴾ (الجمعة:62: 10) جب جمعے کی نماز پڑھ لی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ۔ اہل علم میں سے کسی کے نزدیک بھی یہ دونوں کام ضروری نہیں، کوئی بے علم شخص کہہ دے تو الگ بات ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2434]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1707
ماہانہ تین دن روزے رکھنے کا بیان۔
منہال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض کے روزہ کے رکھنے کا حکم دیتے تھے یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں تاریخ کے روزے کا، اور فرماتے: یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے مثل ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1707]
اردو حاشہ:
فائده:
  مذ کورہ روایت کو ہما رے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے تاہم اس مفہوم کی دوسری احادیث حضرت ابو ذر غفا ری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے جنھیں شیخ عبدالقادر ارناؤوط نے جامع الاصول کے حاشیے میں حسن قرار دیا ہے دیکھیے: (جامع الأصول، حدیث: 4474)
 حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث جامع تر ندی اور سنن نسائی میں وارد ہے۔ دیکھیے: (جامع الترمذي، الصوم، باب ماجاء فی الصوم ثلاثة ایام من کل شھر، حدیث: 762، وسنن نسائي، الصوم، باب الذکر الإختلاف علی موسی بن طلحة فی االخیر فی صیام ثلاثة ایام من الشھر، حدیث: 2426)
حضرت عبداللہ ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث سنن نسائی میں وارد ہے (کتاب، الصوم، باب صوم النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث 2347)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1707]

Sunan Abi Dawud Hadith 2449 in Urdu