علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب فضل الغزو في البحر
باب: سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2492
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُخْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ الرُّمَيْصَاءِ، قَالَتْ: نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ وَكَانَتْ تَغْسِلُ رَأْسَهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَضْحَكُ مِنْ رَأْسِي؟ قَالَ: لَا، وَسَاقَ هَذَا الْخَبَرَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الرُّمَيْصَاءُ أُخْتُ أُمِّ سُلَيْمٍ مِنَ الرَّضَاعَةِ.
ام حرام رمیصاء ۱؎ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے پھر بیدار ہوئے، اور وہ اپنا سر دھو رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ میرے بال دیکھ کر ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی بیشی کے ساتھ بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رمیصاء ام سلیم کی رضاعی بہن تھیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2492]
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی ہمشیرہ رمیصاء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر جاگے جبکہ یہ اپنا سر دھو رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے تو ہنس رہے تھے، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سر پر ہنس رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اور پوری حدیث بیان کی جس میں کچھ کمی بیشی ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”رمیصاء ام سلیم رضی اللہ عنہا کی رضاعی بہن ہیں اور یہی ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2492]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2490)، (تحفة الأشراف: 18307) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ام سلیم رضی اللہ عنہا ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں، سند میں اخت ام سلیم سے مراد ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا ہی ہیں، ام حرام رضی اللہ عنہا کو رمیصاء کہا جاتا تھا، اور امّ سلیم رضی اللہ عنہا کو غمیصاء۔
۲؎: ابوداود کا یہ قول صحیح نہیں ہے، وہ رضاعی نہیں بلکہ نسبی اور حقیقی بہن تھیں۔
۲؎: ابوداود کا یہ قول صحیح نہیں ہے، وہ رضاعی نہیں بلکہ نسبی اور حقیقی بہن تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 2492 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← أم حرام بنت ملحان الأنصارية