🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
102. باب في الجنب يغسل رأسه بخطمي أيجزئه ذلك
باب: کیا جنبی اپنا سر خطمی سے دھوئے تو کافی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 256
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ، وَلَا يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں اپنا سر خطمی ۱؎ سے دھوتے اور اسی پر اکتفا کرتے، اور اس پر (دوسرا) پانی نہیں ڈالتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17811) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے اندر واقع ایک راوی «رجل» مبہم ہے)
وضاحت: ۱؎: خطمی ایک گھاس ہے جو سر دھلنے میں استعمال ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من بني سواءة: مجهول (تقريب: 8518)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 22

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
0
👤←👥قيس بن وهب الهمداني
Newقيس بن وهب الهمداني ← اسم مبهم
ثقة
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← قيس بن وهب الهمداني
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥محمد بن جعفر الوركاني، أبو عمران
Newمحمد بن جعفر الوركاني ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
256
يغسل رأسه بالخطمي وهو جنب يجتزئ بذلك ولا يصب عليه الماء
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 256 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 256
256۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت ضعیف ہے، اس لیے صابن، شیمپو وغیرہ اشیاء سے سر دھونے میں پانی کا استعمال ناگزیر ہے۔ پانی کے بغیر طہارت کا حصول ممکن نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 256]