سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
102. باب في الجنب يغسل رأسه بخطمي أيجزئه ذلك
باب: کیا جنبی اپنا سر خطمی سے دھوئے تو کافی ہے؟
حدیث نمبر: 256
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ، وَلَا يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں اپنا سر خطمی ۱؎ سے دھوتے اور اسی پر اکتفا کرتے، اور اس پر (دوسرا) پانی نہیں ڈالتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17811) (ضعیف)» (اس کے اندر واقع ایک راوی «رجل» مبہم ہے)
وضاحت: ۱؎: خطمی ایک گھاس ہے جو سر دھلنے میں استعمال ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من بني سواءة: مجهول (تقريب: 8518)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 22
إسناده ضعيف
رجل من بني سواءة: مجهول (تقريب: 8518)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 22
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
256
| يغسل رأسه بالخطمي وهو جنب يجتزئ بذلك ولا يصب عليه الماء |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 256 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 256
256۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت ضعیف ہے، اس لیے صابن، شیمپو وغیرہ اشیاء سے سر دھونے میں پانی کا استعمال ناگزیر ہے۔ پانی کے بغیر طہارت کا حصول ممکن نہیں۔
یہ روایت ضعیف ہے، اس لیے صابن، شیمپو وغیرہ اشیاء سے سر دھونے میں پانی کا استعمال ناگزیر ہے۔ پانی کے بغیر طہارت کا حصول ممکن نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 256]
اسم مبهم ← عائشة بنت أبي بكر الصديق