سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. باب في ركوب ثلاثة على دابة
باب: تین آدمیوں کا ایک ہی جانور پر سوار ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2566
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوَرِّقٍ يَعْنِي الْعِجْلِيَّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، اسْتُقْبِلَ بِنَا فَأَيُّنَا اسْتُقْبِلَ أَوَّلًا جَعَلَهُ أَمَامَهُ فَاسْتُقْبِلَ بِي فَحَمَلَنِي أَمَامَهُ، ثُمَّ اسْتُقْبِلَ بِحَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ، فَجَعَلَهُ خَلْفَهُ فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ وَإِنَّا لَكَذَلِكَ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، جو ہم میں سے پہلے پہنچتا اس کو آپ آگے بٹھا لیتے، چنانچہ (ایک بار) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے پایا تو مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، پھر حسن یا حسین پہنچے تو انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر ہم مدینہ میں اسی طرح (سواری پر) بیٹھے ہوئے داخل ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2566]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/فضائل الصحابة 35 (2428)، سنن ابن ماجہ/الأدب 33 (3773)، (تحفة الأشراف: 5230)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الاستئذان 36 (2707)، مسند احمد (1/203) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2428)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6268
| إذا قدم من سفر تلقي بصبيان أهل بيته قال وإنه قدم من سفر فسبق بي إليه فحملني بين يديه ثم جيء بأحد ابني فاطمة فأردفه خلفه فأدخلنا المدينة ثلاثة على دابة |
صحيح مسلم |
6269
| إذا قدم من سفر تلقي بنا قال فتلقي بي وبالحسن أو بالحسين فحمل أحدنا بين يديه والآخر خلفه حتى دخلنا المدينة |
سنن أبي داود |
2566
| استقبل بنا فأينا استقبل أولا جعله أمامه فاستقبل بي فحملني أمامه ثم استقبل بحسن أو حسين فجعله خلفه فدخلنا المدينة وإنا لكذلك |
سنن ابن ماجه |
3773
| حمل أحدنا بين يديه والآخر خلفه حتى قدمنا المدينة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2566 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2566
فوائد ومسائل:
1۔
اشراف اور معزز لوگوں کا شہر سے باہر نکل کر استقبال کرنا مباح ہے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے محبت کرتے تھے۔
اور انھیں عزت بھی دیتے تھے۔
3۔
جانورکی صحت اور طاقت کے لہاظ سے اس پر دو یا تین افراد کا سوار ہو جانا ظلم نہیں مباح ہے۔
1۔
اشراف اور معزز لوگوں کا شہر سے باہر نکل کر استقبال کرنا مباح ہے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے محبت کرتے تھے۔
اور انھیں عزت بھی دیتے تھے۔
3۔
جانورکی صحت اور طاقت کے لہاظ سے اس پر دو یا تین افراد کا سوار ہو جانا ظلم نہیں مباح ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2566]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3773
ایک سواری پر تین آدمیوں کے سوار ہونے کا بیان۔
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے تشریف لاتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، ایک بار میں نے اور حسن یا حسین رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا، تو آپ نے ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے آگے، اور دوسرے کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3773]
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے تشریف لاتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، ایک بار میں نے اور حسن یا حسین رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا، تو آپ نے ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے آگے، اور دوسرے کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3773]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بزرگوں کو چاہیے کہ بچوں سے شفقت کا سلوک کریں۔
(2)
سفر سے واپس آنے والے کا استقبال کرنا درست ہے لیکن اس میں بے جا تکلفات کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
جانور پر ایک سے زیادہ افراد سوار ہو سکتے ہیں بشرطیکہ جانور آسانی سے بوجھ برداشت کر سکے۔
لمبے سفر میں یا کمزور جانور پر دو افراد کا سوار ہونا مناسب نہیں۔
(4)
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ اور حسن یا حسین ؓ بچے تھے۔
ان دونوں کا بوجھ مل کر بھی ایک بڑے آدمی کے برابر نہیں تھا، اس لیے تین افراد کا سوار ہونا جانور کے لیے مشقت کا باعث نہیں تھا۔
فوائد و مسائل:
(1)
بزرگوں کو چاہیے کہ بچوں سے شفقت کا سلوک کریں۔
(2)
سفر سے واپس آنے والے کا استقبال کرنا درست ہے لیکن اس میں بے جا تکلفات کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
جانور پر ایک سے زیادہ افراد سوار ہو سکتے ہیں بشرطیکہ جانور آسانی سے بوجھ برداشت کر سکے۔
لمبے سفر میں یا کمزور جانور پر دو افراد کا سوار ہونا مناسب نہیں۔
(4)
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ اور حسن یا حسین ؓ بچے تھے۔
ان دونوں کا بوجھ مل کر بھی ایک بڑے آدمی کے برابر نہیں تھا، اس لیے تین افراد کا سوار ہونا جانور کے لیے مشقت کا باعث نہیں تھا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3773]
مورق العجلي ← عبد الله بن جعفر الهاشمي