سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. باب في السبق على الرجل
باب: پیدل دوڑ کے مقابلے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2578
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَنْطَاكِيُّ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَتْ: فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلَيَّ فَلَمَّا حَمَلْتُ اللَّحْمَ سَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي، فَقَالَ: هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی، پھر جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو میں نے آپ سے (دوبارہ) مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جیت اس جیت کے بدلے ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17736)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/النکاح 50 (1979)، مسند احمد (6/129، 280) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3251)
مشكوة المصابيح (3251)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2578
| هذه بتلك السبقة |
سنن ابن ماجه |
1979
| سابقني النبي فسبقته |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2578 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2578
فوائد ومسائل:
اس واقعہ میں یہ بیان ہے کہ گھریلو زندگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز انتہائی ملائمت اور الفت بھرا ہوتا تھا۔
نیز پیدل دوڑ کا مقابلہ بھی کیا کرایا جا سکتا ہے۔
اس واقعہ میں یہ بیان ہے کہ گھریلو زندگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز انتہائی ملائمت اور الفت بھرا ہوتا تھا۔
نیز پیدل دوڑ کا مقابلہ بھی کیا کرایا جا سکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2578]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1979
عورتوں سے اچھے سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1979]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1979]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل ہوا، وہ کم سن تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کم سنی کا خیال کرتے ہوئے ان کو دل لگی کے مواقع فراہم کرتے تھے۔
(2)
بچوں اور بچیوں کو جائز تفریح کےمناسب مواقع فراہم کرنے چاہییں۔
(3)
گھرمیں سنجیدگی طاری کیے رکھنا درست نہیں۔
بیوی بچوں سے مناسب مزاح اور ان کا دل خوش کرنے کی کوشش کسی کی بزرگی کےمنافی نہیں۔
(4)
یہ سفر کا واقعہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:
”تم لوگ آگے نکل جاؤ۔“
بعد میں ام المؤمنین رضی اللہ عنہن کے ساتھ دوڑ لگائی۔
اس وقت وہ آگے نکل گئیں۔
کئی سال بعد پھر ایک سفر میں ایسا ہی ہوا تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہن پیچھے رہ گئیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”یہ پہلی دوڑ کا بدلہ اتر گیا“ دیکھیے: (سنن أبي داؤد، الجہاد، باب فی السبق علی الرجل، حدیث: 2578)
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل ہوا، وہ کم سن تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کم سنی کا خیال کرتے ہوئے ان کو دل لگی کے مواقع فراہم کرتے تھے۔
(2)
بچوں اور بچیوں کو جائز تفریح کےمناسب مواقع فراہم کرنے چاہییں۔
(3)
گھرمیں سنجیدگی طاری کیے رکھنا درست نہیں۔
بیوی بچوں سے مناسب مزاح اور ان کا دل خوش کرنے کی کوشش کسی کی بزرگی کےمنافی نہیں۔
(4)
یہ سفر کا واقعہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:
”تم لوگ آگے نکل جاؤ۔“
بعد میں ام المؤمنین رضی اللہ عنہن کے ساتھ دوڑ لگائی۔
اس وقت وہ آگے نکل گئیں۔
کئی سال بعد پھر ایک سفر میں ایسا ہی ہوا تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہن پیچھے رہ گئیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”یہ پہلی دوڑ کا بدلہ اتر گیا“ دیکھیے: (سنن أبي داؤد، الجہاد، باب فی السبق علی الرجل، حدیث: 2578)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1979]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق