🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. باب في الرايات والألوية
باب: جنگ میں جھنڈے اور پرچم لہرانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2593
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ الشَّعِيرِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، عَنْ آخَرَ مِنْهُمْ، قَالَ: رَأَيْتُ رَايَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفْرَاءَ.
سماک اپنی قوم کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اور اس نے انہیں میں سے ایک دوسرے شخص سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم زرد دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15703) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں دو مبہم راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
’’رجل من قومه ‘‘ : مجهول (انظر عون المعبود 337/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← اسم مبهم
0
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← اسم مبهم
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥سلم بن قتيبة الشعيري، أبو قتيبة
Newسلم بن قتيبة الشعيري ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥عقبة بن مكرم العمي، أبو عبد الملك
Newعقبة بن مكرم العمي ← سلم بن قتيبة الشعيري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2593
رأيت راية رسول الله صفراء
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2593 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2593
فوائد ومسائل:

جہاد میں جھنڈے کا اہتمام کرنا مستحب ہے۔


قرون اولیٰ میں جھندوں کا کوئی رنگ اورسائز مخصوص نہ ہوتا تھا۔
اور یہ زرد رنگ والی روایت ضعیف ہے۔


جنگ میں اور دیگر اہم مواقع پر جھنڈے کو بلند اور نمایاں رکھنا بلاشبہ مطلوب ہے۔
مگر یہ سب ایک نظم کے لئے ہوتا ہے۔
اسے تقدس اوراحترام کا ایسا مفہوم دینا جو آجکل عام کردیا گیا ہے۔
غیر شرعی ہے، بلکہ شرک کی حدود کو چھوتا ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2593]