یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
85. باب في الابتكار في السفر
باب: سفر میں صبح سویرے نکلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2606
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ حَدِيدٍ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا"، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ صَخْرُ بْنُ وَدَاعَةَ.
صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لأمتي في بكورها» ”اے اللہ! میری امت کے لیے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے“ اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی سریہ یا لشکر بھیجتے، تو دن کے ابتدائی حصہ میں بھیجتے۔ (عمارہ کہتے ہیں) صخر ایک تاجر آدمی تھے، وہ اپنی تجارت صبح سویرے شروع کرتے تھے تو وہ مالدار ہو گئے اور ان کا مال بہت ہو گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صخر سے مراد صخر بن وداعہ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2606]
سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میری امت کے لیے ان کی صبحوں میں برکت ڈال دے۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی مہم یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو انہیں دن کے پہلے پہر روانہ فرماتے۔ اور سیدنا صخر رضی اللہ عنہ ایک تاجر صحابی تھے، تو وہ اپنے کارندوں کو دن کے پہلے پہر روانہ کیا کرتے تھے، چنانچہ وہ مالدار ہو گئے تھے اور ان کا مال خوب بڑھ گیا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ان کا نام صخر بن وداعہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البیوع 6 (1212)، سنن ابن ماجہ/ التجارات 41 (2236)، (تحفة الأشراف: 4852)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/416، 417، 432، 4/384،390، 391)، دی/ السیر 1(2479) (صحیح)» (حدیث کا پہلا ٹکڑا «اللهم بارك لأمتي في بكورها» شواہد کی وجہ سے صحیح ہے اور سند میں عمارہ بن حدید کی توثیق ابن حبان نے کی ہے جو مجاہیل کی توثیق کرتے ہیں، اور ابن حجر نے مجہول کہا ہے حدیث کے دوسرے ٹکڑے کو البانی صاحب نے ’’الضعیفہ (4178)“ میں شاہد نہ ملنے کی وجہ سے ضعیف کہا ہے جب کہ سنن ابی داود میں پوری حدیث کو صحیح کہا ہے لیکن سنن ابن ماجہ میں تفصیل بیان کردی ہے، نیز اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3908)
أخرجه الترمذي (1212 وسنده حسن) وابن ماجه (2236 وسنده حسن) عمارة بن حديد حسن الحديث علي الراجح وثقه العجلي وابن خزيمة وغيرھما
مشكوة المصابيح (3908)
أخرجه الترمذي (1212 وسنده حسن) وابن ماجه (2236 وسنده حسن) عمارة بن حديد حسن الحديث علي الراجح وثقه العجلي وابن خزيمة وغيرھما
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥صخر بن وداعة الغامدي | صحابي | |
👤←👥عمارة بن حديد البجلي عمارة بن حديد البجلي ← صخر بن وداعة الغامدي | مجهول | |
👤←👥يعلى بن عطاء العامري يعلى بن عطاء العامري ← عمارة بن حديد البجلي | ثقة | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← يعلى بن عطاء العامري | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥سعيد بن منصور الخراساني، أبو عثمان سعيد بن منصور الخراساني ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1212
| اللهم بارك لأمتي في بكورها إذا بعث سرية أو جيشا بعثهم أول النهار |
سنن أبي داود |
2606
| اللهم بارك لأمتي في بكورها إذا بعث سرية أو جيشا بعثهم في أول النهار كان صخر رجلا تاجرا وكان يبعث تجارته من أول النهار فأثرى وكثر ماله |
سنن ابن ماجه |
2236
| اللهم بارك لأمتي في بكورها |
المعجم الصغير للطبراني |
526
| اللهم بارك لأمتي فى بكورها |
Sunan Abi Dawud Hadith 2606 in Urdu
عمارة بن حديد البجلي ← صخر بن وداعة الغامدي