سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
93. باب في ابن السبيل يأكل من التمر ويشرب من اللبن إذا مر به
باب: مسافر کھجور کے باغات یا دودھ والے جانوروں کے پاس سے۔
حدیث نمبر: 2620
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: أَصَابَتْنِي سَنَةٌ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَفَرَكْتُ سُنْبُلًا فَأَكَلْتُ، وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي، فَجَاءَ صَاحِبُهُ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: مَا عَلَّمْتَ إِذْ كَانَ جَاهِلًا، وَلَا أَطْعَمْتَ إِذْ كَانَ جَائِعًا، أَوْ قَالَ: سَاغِبًا وَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيَّ ثَوْبِي وَأَعْطَانِي وَسْقًا أَوْ نِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ.
عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے قحط نے ستایا تو میں مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا اور کچھ بالیاں توڑیں، انہیں مل کر کھایا، اور (باقی) اپنے کپڑے میں باندھ لیا، اتنے میں اس کا مالک آ گیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (اور آپ سے سارا ماجرا بتایا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے فرمایا: ”تم نے اسے بتایا نہیں جب کہ وہ جاہل تھا اور نہ کھلایا ہی جب کہ وہ بھوکا تھا“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا اس نے میرا کپڑا واپس کر دیا اور ایک وسق (ساٹھ صاع) یا نصف وسق (تیس صاع) غلہ مجھے دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2620]
سیدنا عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے قحط (اور بھوک) نے ستایا، تو میں مدینہ کے ایک باغ میں چلا گیا اور وہاں سے میں نے ایک بالی لی، اسے مسلا اور کھا لیا اور کچھ اپنے کپڑے میں بھی باندھ لیے چلا، پس باغ کا مالک آ گیا تو اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا بھی چھین لیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تو نے اسے سمجھایا نہیں جبکہ یہ نادان تھا اور نہ تو نے اس کو کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا۔“ (لفظ «جَائِعًا» بولا یا «سَاغِبًا» معنی ایک ہی ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا، تو اس نے میرا کپڑا واپس کر دیا اور مجھے ایک وسق یا آدھا وسق طعام بھی دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/آداب القضاة 20 (5411)، سنن ابن ماجہ/التجارات 67 (2298)، (تحفة الأشراف: 5061)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/166) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (2298 وسنده صحيح) ورواه النسائي (5411 وسنده صحيح)
أخرجه ابن ماجه (2298 وسنده صحيح) ورواه النسائي (5411 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2620
| ما علمت إذ كان جاهلا ولا أطعمت إذ كان جائعا وأمره فرد علي ثوبي وأعطاني وسقا أو نصف وسق من طعام |
سنن ابن ماجه |
2298
| ما أطعمته إذ كان جائعا أو ساغبا ولا علمته إذ كان جاهلا |
سنن النسائى الصغرى |
5411
| ما علمته إذ كان جاهلا ولا أطعمته إذ كان جائعا اردد عليه كساءه وأمر لي رسول الله بوسق أو نصف وسق |
Sunan Abi Dawud Hadith 2620 in Urdu
جعفر بن أبي وحشية اليشكري ← عباد بن شرحبيل اليشكري