یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
102. باب في البيات
باب: شب خون (رات میں چھاپہ) مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2638
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، وَأَبُو عَامِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَغَزَوْنَا نَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَبَيَّتْنَاهُمْ نَقْتُلُهُمْ وَكَانَ شِعَارُنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ أَمِتْ أَمِتْ، قَالَ سَلَمَةُ: فَقَتَلْتُ بِيَدِي تِلْكَ اللَّيْلَةَ سَبْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ.
سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا، ہم نے مشرکین کے کچھ لوگوں سے جہاد کیا تو ہم نے ان پر شب خون مارا، ہم انہیں قتل کر رہے تھے، اور اس رات ہمارا شعار (کوڈ) «أمت أمت» ۱؎ تھا، اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھروں کے مشرکوں کو قتل کیا ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2638]
جناب ایاس بن سلمہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر بنایا، پھر ہم مشرکین سے جہاد کے لیے نکلے۔ ہم نے ان پر شب خون مارا۔ اس رات ہمارا شعار «أَمِتْ أَمِتْ» ”موت دے، موت دے“ تھا۔ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھروں کے مشرکین کو قتل کیا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2638]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجھاد 30 (2840)، (تحفة الأشراف: 4516)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/46)، سنن الدارمی/السیر 15 (2495) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اے مدد کرنے والے دشمن کو فنا کر۔
۲؎: اس حدیث سے کافروں پر شب خون مارنے کا جواز ثابت ہوا اگر اسلام کی دعوت ان تک پہنچ چکی ہو۔
۲؎: اس حدیث سے کافروں پر شب خون مارنے کا جواز ثابت ہوا اگر اسلام کی دعوت ان تک پہنچ چکی ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3950)
انظر الحديث السابق (2596)
مشكوة المصابيح (3950)
انظر الحديث السابق (2596)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2596
| شعارنا أمت أمت |
سنن أبي داود |
2638
| شعارنا تلك الليلة أمت أمت قال سلمة فقتلت بيدي تلك الليلة سبعة أهل أبيات من المشركين |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2638 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2638
فوائد ومسائل:
حسب ضرورت ومصلحت شب خون مارنے میں کوئی عیب نہیں۔
اور نہ اسے معروف معنی میں دھوکا یا بزدلی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
حسب ضرورت ومصلحت شب خون مارنے میں کوئی عیب نہیں۔
اور نہ اسے معروف معنی میں دھوکا یا بزدلی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2638]
Sunan Abi Dawud Hadith 2638 in Urdu
إياس بن سلمة الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي