سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
121. باب في قتل النساء
باب: عورتوں کے قتل کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2671
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمْ يُقْتَلْ مِنْ نِسَائِهِمْ تَعْنِي بَنِي قُرَيْظَةَ إِلَّا امْرَأَةٌ إِنَّهَا لَعِنْدِي تُحَدِّثُ تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يقتل رجالهم بالسيوف، إذ هتف هاتف باسمها أين فلانة؟ قَالَتْ: أَنَا، قُلْتُ: وَمَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: حَدَثٌ أَحْدَثْتُهُ، قَالَتْ: فَانْطَلَقَ بِهَا فَضُرِبَتْ عُنُقُهَا فَمَا أَنْسَى عَجَبًا مِنْهَا أَنَّهَا تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا وَقَدْ عَلِمَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بنی قریظہ کی عورتوں میں سے کوئی بھی عورت نہیں قتل کی گئی سوائے ایک عورت کے جو میرے پاس بیٹھ کر اس طرح باتیں کر رہی تھی اور ہنس رہی تھی کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ جا رہے تھے، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مردوں کو تلوار سے قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا: فلاں عورت کہاں ہے؟ وہ بولی: میں ہوں، میں نے پوچھا: تجھ کو کیا ہوا کہ تیرا نام پکارا جا رہا ہے، وہ بولی: میں نے ایک نیا کام کیا ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر وہ پکارنے والا اس عورت کو لے گیا اور اس کی گردن مار دی گئی، اور میں اس تعجب کو اب تک نہیں بھولی جو مجھے اس کے اس طرح ہنسنے پر ہو رہا تھا کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ پڑ جا رہے تھے، حالانکہ اس کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ قتل کر دی جائے گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2671]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”(یہودیوں کے قبیلہ) بنی قریظہ کی عورتوں میں سے صرف ایک عورت کو قتل کیا گیا تھا، وہ میرے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی اور اتنا ہنستی تھی کہ اس کے پیٹ اور کمر میں بل پڑ جاتے تھے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں اس کی قوم کے لوگوں کو قتل کیے جا رہے تھے۔ اچانک ایک پکارنے والے نے اس عورت کا نام پکارا کہ ”فلانی کہاں ہے؟“ وہ کہنے لگی: ”میں ہوں۔“ میں نے پوچھا: ”تیرا کیا قصہ ہے؟“ کہنے لگی: ”میں نے ایک سازشی کام کیا ہے۔“ چنانچہ وہ پکارنے والا اسے لے گیا اور پھر اس کی گردن مار دی گئی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”میں اسے نہیں بھولی ہوں اور اس پر تعجب ہوتا ہے کہ اسے معلوم تھا کہ وہ قتل ہونے والی ہے مگر وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16387)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/277) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: کہا جاتا ہے کہ اس عورت کا نیا کام یہ تھا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی تھیں، اسی سبب سے اسے قتل کیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ھشام في السيرة (2/242 بتحقيقي)
أخرجه ابن ھشام في السيرة (2/242 بتحقيقي)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2671
| انطلق بها فضربت عنقها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2671 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2671
فوائد ومسائل:
علامہ خطابی فرماتے ہیں۔
کہ اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تھی۔
اس وجہ سے اسے قتل کیا گیا تھا۔
اور شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی سزا ہے۔
علامہ خطابی فرماتے ہیں۔
کہ اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تھی۔
اس وجہ سے اسے قتل کیا گیا تھا۔
اور شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی سزا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2671]
Sunan Abi Dawud Hadith 2671 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق