🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
140. باب في بيع الطعام إذا فضل عن الناس في أرض العدو
باب: دشمن کے علاقہ میں ضرورت سے زائد کھانے کی چیزوں کو بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2707
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْعَزِيزِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الأُرْدُنِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ: رَابَطْنَا مَدِينَةَ قِنَّسْرِينَ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ فَلَمَّا فَتَحَهَا أَصَابَ فِيهَا غَنَمًا وَبَقَرًا فَقَسَمَ فِينَا طَائِفَةً مِنْهَا وَجَعَلَ بَقِيَّتَهَا فِي الْمَغْنَمِ، فَلَقِيتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ مُعَاذٌ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَأَصَبْنَا فِيهَا غَنَمًا فَقَسَمَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَائِفَةً وَجَعَلَ بَقِيَّتَهَا فِي الْمَغْنَمِ.
عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ ہم نے شرحبیل بن سمط کے ساتھ شہر قنسرین کا محاصرہ کیا، جب آپ نے اس شہر کو فتح کیا تو وہاں بکریاں اور گائیں ملیں تو ان میں سے کچھ تو ہم میں تقسیم کر دیں اور کچھ مال غنیمت میں شامل کر لیں، پھر میری ملاقات معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان سے بیان کیا، تو آپ نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر کیا تو ہمیں اس میں بکریاں ملیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حصہ ہم میں تقسیم کر دیا اور بقیہ حصہ مال غنیمت میں شامل کر دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11334) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: گویا کھانے پینے کی چیزیں حسب ضرورت مجاہدین میں تقسیم کر دی جائیں گی اور بقیہ مال غنیمت میں شامل کر دیا جائے گا ان کا بیچنا صحیح نہیں ہو گا، یہی باب سے مطابقت ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاذ بن جبل الأنصاري، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن غنم الأشعري
Newعبد الرحمن بن غنم الأشعري ← معاذ بن جبل الأنصاري
مختلف في صحبته
👤←👥عبادة بن نسي الكندي، أبو عمر
Newعبادة بن نسي الكندي ← عبد الرحمن بن غنم الأشعري
ثقة
👤←👥يحيى بن عبد العزيز الشامي، أبو عبد العزيز
Newيحيى بن عبد العزيز الشامي ← عبادة بن نسي الكندي
مقبول
👤←👥يحيى بن حمزة الحضرمي، أبو عبد الرحمن
Newيحيى بن حمزة الحضرمي ← يحيى بن عبد العزيز الشامي
ثقة رمي بالقدر
👤←👥محمد بن المبارك القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن المبارك القرشي ← يحيى بن حمزة الحضرمي
ثقة
👤←👥محمد بن المصفى القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن المصفى القرشي ← محمد بن المبارك القرشي
صدوق له أوهام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2707
قسم فينا رسول الله طائفة وجعل بقيتها في المغنم
بلوغ المرام
1120
فقسم فينا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم طائفة وجعل بقيتها في المغنم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2707 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2707
فوائد ومسائل:
مطعومات سے جو استعمال ہوجائے اسے استعمال کر لیا جائے۔
اور بقیہ کو بطور غنیمت جمع رکھا جائے تاکہ بعد میں خمس (پانچواں حصہ) نکال کر حصوں کے مطابق تقسیم کیا جا سکے۔
اسے فروخت نہ کیا جائے ہاں ہر شخص اپنا حصہ وصول کرلینے کے بعد اس میں جو تصرف کرے۔
اس کا حق ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2707]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1120
(جہاد کے متعلق احادیث)
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ خیبر لڑا۔ اس میں ہمارے ہاتھ کچھ بکریاں غنیمت میں آئیں۔ ان میں سے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں تقسیم کر دیں اور باقی کو غنیمت کے اموال میں شامل فرما دیا۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ایسے ہیں جن میں کوئی حرج نہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1120»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في بيع الطعام إذا فضل عن الناس في أرض العدو، حديث:2707.»
تشریح:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ خمس نکالنے سے پہلے اصل مال غنیمت سے بطور نفل کچھ دیا جا سکتا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1120]