🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
144. باب في الغلول إذا كان يسيرا يتركه الإمام ولا يحرق رحله
باب: مال غنیمت میں سے کوئی معمولی چیز چرا لے تو امام اس کو چھوڑ دے اور اس کا سامان نہ جلائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2712
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ فَيَجِيئُونَ بِغَنَائِمِهِمْ فَيَخْمُسُهُ وَيُقَسِّمُهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْغَنِيمَةِ فَقَالَ: أَسَمِعْتَ بِلَالًا يُنَادِي ثَلَاثًا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ، فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ: كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَنْ أَقْبَلَهُ عَنْكَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مال غنیمت حاصل ہوتا تو آپ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ لوگ اپنا مال غنیمت لے کر آئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکال کر باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیتے، ایک شخص اس تقسیم کے بعد بال کی ایک لگام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بھی اسی مال غنیمت میں سے ہے جو ہمیں ملا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے بلال رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ آواز لگاتے سنا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اسے لانے سے تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ تو اس نے آپ سے کچھ عذر بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ لے جاؤ، قیامت کے دن لے کر آنا، میں تم سے اسے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2712]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8838)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/213) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4012)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥عامر الأحول
Newعامر الأحول ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن شوذب الخراساني، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن شوذب الخراساني ← عامر الأحول
ثقة
👤←👥إبراهيم بن محمد الفزاري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن محمد الفزاري ← عبد الله بن شوذب الخراساني
إمام ثقة حافظ
👤←👥محبوب بن موسى الأنطاكي، أبو صالح
Newمحبوب بن موسى الأنطاكي ← إبراهيم بن محمد الفزاري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2712
إذا أصاب غنيمة أمر بلالا فنادى في الناس فيجيئون بغنائمهم فيخمسه ويقسمه فجاء رجل بعد ذلك بزمام من شعر فقال يا رسول الله هذا فيما كنا أصبناه من الغنيمة فقال أسمعت بلالا ينادي ثلاثا قال نعم قال فما منعك أن تجيء به فاعتذر إليه فقال كن أنت تجيء به يوم القيامة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2712 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2712
فوائد ومسائل:

عام معاملات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی نرم اور رقیق القلب تھے۔
مگر حدود اللہ اور حقوق العباد کے معاملے میں انتہائی سخت تھے۔


دنیا کی سزا جتنی بھی ہو آخرت کے عذاب کے مقابلے میں تھوڑی ہلکی اور ختم ہونے والی ہوتی ہے۔
اور آخرت کا عذاب ناقابل بیان حد تک سخت ہے۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قبول کرنے سے انکار کرنے سے مقصد اس جرم کی شناعت وقباحت کو واضح کرنا تھا۔
اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس کی توبہ غیر مقبول تھی یا اس مال کو اس کے مستحقین میں پہنچانا ناممکن تھا۔
اور بعض نے اس کی توجیہ اس طرح کی ہے۔
کہ اس مال غنیمت میں تمام مجاہدین کا حصہ تھا۔
اور وہ سب متفرق ہوچکے تھے۔
اس میں سے ہرایک کو اس کا حصہ پہنچانا ناممکن تھا۔
اس لئے اس حصے کو اس کے پاس ہی رہنے دیا گیا تاکہ اس کا وبال اسی پر پڑے۔
اور وہی اس کی سزا بھگتے۔
اس میں بھی گویا وعید شدید کا پہلو ہے۔
(عون)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2712]