🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
179. باب في كراء المقاسم
باب: تقسیم کرنے والوں کی اجرت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2784
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ شَرِيكٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ الرَّجُلُ: يَكُونُ عَلَى الْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ فَيَأْخُذُ مِنْ حَظِّ هَذَا وَحَظِّ هَذَا.
عطاء بن یسار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک شخص لوگوں کی مختلف جماعتوں پر مقرر ہوتا ہے تو وہ اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے اور اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2784]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19092) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (یہ مرسل روایت ہے، عطاء تابعی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ھذا حديث مرسل كما قال البغوي (شرح السنة 90/10 ح 2494)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمدثقة
👤←👥شريك بن عبد الله الليثي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله الليثي ← عطاء بن يسار الهلالي
صدوق يخطئ
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← شريك بن عبد الله الليثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2784 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2784
فوائد ومسائل:
بلحاظ اسناد یہ روایات ضعیف ہیں۔
مگر بااعتبار معنی ومفہوم واضح ہے۔
کہ امیر اور ریئس کےلئے کسی طرح جائز نہیں کہ لوگوں کے حقوق تقسیم کرتے ہوئے ان سے کوئی چیز وصول کرے۔
البتہ کسی اور کو جو اس عمل کا زمہ دار نہ ہو اگر اس سے اس کام کےلئے کہا جائے۔
تو اسے حق حاصل ہے کہ کوئی مقدار معین کرکے لےلے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2784]