🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب الأضحية عن الميت
باب: مردے کی طرف سے قربانی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2790
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ حَنَشٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ.
حنش کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دو دنبے قربانی کرتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ (یعنی قربانی میں ایک دنبہ کفایت کرتا ہے آپ دو کیوں کرتے ہیں) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، تو میں آپ کی طرف سے (بھی) قربانی کرتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2790]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأضاحي 3 (1495)، (تحفة الأشراف: 10072)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/107، 149، 150) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابوالحسناء مجہول ہیں، نیز حنش کے بارے میں بھی اختلاف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1495)
شريك والحكم بن عتيبة مدلسان و عنعنا
و أبو الحسناء ’’مجهول‘‘ (تقريب التهذيب: 8053)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 101

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥حنش بن المعتمر الكناني، أبو المعتمر
Newحنش بن المعتمر الكناني ← علي بن أبي طالب الهاشمي
مقبول
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← حنش بن المعتمر الكناني
ثقة ثبت
👤←👥الحسين الكوفي، أبو الحسناء
Newالحسين الكوفي ← الحكم بن عتيبة الكندي
مجهول
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← الحسين الكوفي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← شريك بن عبد الله القاضي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2790
أوصاني أن أضحي عنه فأنا أضحي عنه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2790 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2790
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم امام ابن تیمیہ میت کی طرف سے قربانی کرنے کے قائل ہیں، جیسے کہ حج اور صدقہ ہوتا ہے۔
لہذا اگرکوئی اپنے کسی فوت شدہ قریبی کی طرف سے قربانی کرے تو جائز ہوگی۔
ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے۔
تو قربانی بھی جائز ہے، کیونکہ یہ بھی تو صدقہ ہے۔
اس لئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے جو قربانی کی جائے۔
اس کا سارا گوشت تقسیم کر دیا جائے۔
خود اس میں سے نہ کھائے۔
(تحفة الأحوذی) دوسرے علماء کہتے ہیں۔
چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پرمیت کی طرف سے قربانی کرنے کا ثبوت نہیں ملتا۔
حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کی تین صاحبزادیاں آپ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ دنیا سے جا چکے تھے۔
لیکن آپ نے ان میں سے کسی کےلئے بھی خصوصی طور پر قربانی جائز نہیں کی۔
البتہ آپ نے اپنی قربانی میں یہ الفاظ ضرور کہے۔
اے اللہ! اس کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرما۔
(صحیح مسلم،کتاب الأوضاحی، حدیث: 1967) اس میں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ اور فوت شدہ سارے ہی افراد آجاتے ہیں۔
اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے۔
اپنی قربانی میں قربانی کرنے والا جن جن کو چاہے شریک کرسکتا ہے۔
حتیٰ کہ فوت شدگان کوبھی لیکن ہر ایک کی طرف سے الگ الگ قربانی پر اس سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
بنا بریں صرف فوت شدگان کی طرف سے الگ مستقل قربانی کا جواز محل نظرہوگا۔
غالبا اسی لئے شیخ البانی نے یہ موقف اختیار کیا ہے۔
کہ امت کی طرف سے قربانی کرنے والا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے۔
جس میں امت کےلئے آپ کی اقتداء جائز نہیں۔
دیکھئے۔
(إرواءالغلیل: 353/4) اس کی تایئد اس سے بھی ہوتی ہے۔
کہ سلف (صحابہ وتابعین) کے دور میں اس عمل (میت کی طرف سے قربانی کرنے) کا ثبوت نہیں ملتا۔
واللہ اعلم۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2790]