🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب ما جاء في أكل معاقرة الأعراب
باب: جن جانوروں کو اعرابی بطور فخر و مباہات ذبح کریں ان کے کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2820
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ مُعَاقَرَةِ الأَعْرَابِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: اسْمُ أَبِي رَيْحَانَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَطَرٍ، وَغُنْدَرٌ أَوْقَفَهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کے کھانے سے منع فرمایا ہے جنہیں اعرابی تفاخر کے طور پر کاٹتے ہیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوریحانہ کا نام عبداللہ بن مطر تھا، اور راوی غندر نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف کر دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2820]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5811) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: چونکہ ان جانوروں سے اللہ کی خوشنودی مقصود نہیں ہوتی تھی اسی لئے انہیں «ما أهل لغير الله به» کے مشابہ ٹھہرایا گیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو ريحانة صدوق تغير بآخرة (تق : 3623) يعني أنه اختلط
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 102

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبد الله بن مطر البصري، أبو ريحانة
Newعبد الله بن مطر البصري ← عبد الله بن العباس القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل
Newعوف بن أبي جميلة الأعرابي ← عبد الله بن مطر البصري
صدوق رمي بالقدر والتشيع
👤←👥حماد بن مسعدة التميمي، أبو سعيد
Newحماد بن مسعدة التميمي ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي
ثقة
👤←👥هارون بن عبد الله البزاز، أبو موسى
Newهارون بن عبد الله البزاز ← حماد بن مسعدة التميمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2820
عن أكل معاقرة الأعراب
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2820 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2820
فوائد ومسائل:
بعض عربوں میں یہ رواج تھا کہ ایک دوسرے کے مقابلے میں آکر اونٹوں کو ذبح کرنا شروع کر دیتے تھے۔
اور ان کا یہ مقابلہ ہوتا رہتا حتیٰ کہ آخر میں ایک عاجز آجاتا اور ا س کے مقابلے میں ان کی اپنی بڑائی غنا اور بڑے دل والا ہونے کا اظہار ہوتا تھا۔
حالانکہ واقعتاً جانور ذبح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔
تو ایسے جانوروں کے گوشت سے منع فرمایا گیا ہے۔
اگرچہ تکبیر پڑھ کر ہی ذبح کئے گئے ہوں۔
کیونکہ اس میں اسراف وتبذیر اور بے مقصد مال ضائع کرنا ہے۔
کچھ علماء نے اس کیفیت کو غیرا للہ کے نام پر ذبح کرنے کے معنی میں بھی لیا ہے۔
کیونکہ یہ اتباع ہویٰ (خواہش نفس) کی وجہ سے ذبح کیے جاتے تھے۔
نہ کے اللہ کے لئے اور نہ اس کے بتائے ہوئے مشروع مقاصد کےلئے۔
اس روایت کی صحت مختلف فیہ ہے۔
لیکن اس میں جس چیز سے منع کیا گیا ہے، وہ دوسرے دلائل کی روح سے ممنوع ہی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2820]