🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب في الذبيحة بالمروة
باب: دھار دار پتھر سے ذبح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2822
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، وَحَمَّادًا حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ، أَوْ صَفْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: اصَّدْتُ أَرْنَبَيْنِ فَذَبَحْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْهُمَا فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهِمَا.
محمد بن صفوان یا صفوان بن محمد کہتے ہیں میں نے دو خرگوش شکار کئے اور انہیں ایک سفید (دھار دار) پتھر سے ذبح کیا، پھر ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الصید 25 (4318)، والضحایا 17 (4404)، سنن ابن ماجہ/الصید 17 (3244)، (تحفة الأشراف: 11224)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/471) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4318 وسنده حسن) وابن ماجه (3175 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن صفوان الأنصاري، أبو مرحبصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← محمد بن صفوان الأنصاري
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← عاصم الأحول
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2822
اصدت أرنبين فذبحتهما بمروة فسألت رسول الله عنهما فأمرني بأكلهما
سنن ابن ماجه
3244
أصبت هذين الأرنبين فلم أجد حديدة أذكيهما بها فذكيتهما بمروة أفآكل قال كل
سنن النسائى الصغرى
4318
أصبت أرنبين فلم أجد ما أذكيهما به فذكيتهما بمروة فسألت النبي عن ذلك فأمرني بأكلهما
سنن النسائى الصغرى
4404
اصطدت أرنبين فلم أجد حديدة أذكيهما به فذكيتهما بمروة أفآكل قال كل
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2822 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2822
فوائد ومسائل:
خرگوش حلال جانور ہے۔
اور جب چھرى موجود نہ ہو تو تیز دھاری دار پتھر سے ذبح کرنا جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2822]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4404
دھاردار پتھر سے ذبح کرنا جائز ہے۔
محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں دو خرگوش ملے انہیں کوئی لوہا نہ ملا جس سے وہ انہیں ذبح کرتے تو انہیں پتھر سے ذبح کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے دو خرگوش شکار کئے مجھے کوئی لوہا نہ مل سکا جس سے میں انہیں ذبح کرتا تو میں نے ان کو ایک تیز دھار والے پتھر سے ذبح کر دیا، کیا میں انہیں کھاؤں؟ آپ نے فرمایا: کھاؤ۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4404]
اردو حاشہ:
ذبح کرنے کا مقصد خون بہانا ہے جس چیز کے ساتھ بھی بہا دیاجائے جائز ہے، بشر طیکہ وہ تیز دھار ہو اور یکبارگی ذبح کرے۔ گلے پر دباو نہ ڈالے بلکہ تیزی سے کاٹ دے تاکہ مذبوح کو کم سے کم تکلیف ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4404]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3244
خرگوش کا بیان۔
محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے دو خرگوش لٹکائے ہوئے گزرے، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے یہ دونوں خرگوش ملے، اور مجھے کوئی لوہا نہیں ملا، جس سے میں انہیں ذبح کرتا، اس لیے میں نے ایک (تیز) پتھر سے انہیں ذبح کر دیا، کیا میں انہیں کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3244]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
خرگوش حلال جانور ہے۔

(2)
  جنگل میں موجود حلال جانور کا شکار جائز ہے۔

(3)
معمولی تحفہ بھی پیش کرنا اور قبول کرنا چاہیے۔

(4)
  ذبح کےلیے لوہے کی چیز ہونا ضروری نہیں۔

(5)
کسی عام سے مسئلے میں بھی شک ہو جائے تو پوچھ لینا چاہیے۔

(6)
عالم سے جب مسئلہ پوچھا جائے تو بتا دے خواہ کتنا مشہور مسئلہ ہو یہ نہ کہے تمہیں یہ بھی معلوم نہیں۔

(7)
مروہ ایک قسم کا سفید پتھر ہے جس کا ٹکڑا چاقو چھری کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ابن اثیر  فرماتےہیں:
حدیث میں اس سے مطلقاً پتھر مراد ہے (کسی بھی قسم کا ہو)
خاص سفید پتھر مراد نہیں۔ (النھایة مادۃ:
مرا)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3244]