سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب في ميراث ذوي الأرحام
باب: ذوی الارحام کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2899
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ الْمِقْدَامِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيَّ، وَرُبَّمَا قَالَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ لَهُ وَأَرِثُهُ وَالْخَالُ وَارِثُ، مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ".
مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بوجھ (قرضہ یا بال بچے) چھوڑ جائے تو وہ میری طرف ہے، اور کبھی راوی نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے ۲؎ اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جس کا کوئی وارث نہیں اس کا میں وارث ہوں، میں اس کی طرف سے دیت دوں گا اور اس شخص کا ترکہ لوں گا، ایسے ہی ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کی دیت دے گا اور اس کا وارث ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2899]
سیدنا مقدام (مقدام بن معد یکرب) رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی قرضہ یا عیال و اطفال چھوڑ گیا تو وہ میرے ذمے ہیں، اور کبھی یوں بھی فرمایا، کہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہیں۔ اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے۔ اور جس کا کوئی وارث نہ ہو میں اس کا وارث ہوں، اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا اور اس کا وارث بنوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی اور وارث نہ ہو، وہ اس کی طرف سے دیت ادا کرے گا اور اس کا وارث بھی بنے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الفرائض 9 (2738)، والدیات 7 (2634)، (تحفة الأشراف: 11569)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/131، 133) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: میت کا ایسا رشتہ دار جو نہ ذوی الفروض میں سے ہو اور نہ عصبہ میں سے۔
۲؎: یعنی میں اس کا قرض ادا کروں گا اور اس کی اولاد کی خبر گیری کروں گا۔
۲؎: یعنی میں اس کا قرض ادا کروں گا اور اس کی اولاد کی خبر گیری کروں گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3052)
وله شاھد عند ابن حبان (1226 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3052)
وله شاھد عند ابن حبان (1226 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2899
| من ترك كلا فإلي ومن ترك مالا فلورثته وأنا وارث من لا وارث له أعقل له وأرثه الخال وارث من لا وارث له يعقل عنه ويرثه |
سنن أبي داود |
2900
| أنا أولى بكل مؤمن من نفسه فمن ترك دينا أو ضيعة فإلي ومن ترك مالا فلورثته وأنا مولى من لا مولى له أرث ماله وأفك عانه الخال مولى من لا مولى له يرث ماله ويفك عانه |
سنن ابن ماجه |
2738
| من ترك مالا فلورثته ومن ترك كلا فإلينا وربما قال فإلى الله وإلى رسوله وأنا وارث من لا وارث له أعقل عنه وأرثه الخال وارث من لا وارث له يعقل عنه ويرثه |
بلوغ المرام |
811
| الخال وارث من لا وارث له |
Sunan Abi Dawud Hadith 2899 in Urdu
عبد الله بن لحي الهوزني ← المقدام بن معدي كرب الكندي