🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب في ميراث ذوي الأرحام
باب: ذوی الارحام کی میراث کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2901
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَتِيقٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَفُكُّ عَانِيَهُ وَأَرِثُ مَالَهُ وَالْخَالُ وَارِثُ، مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَفُكُّ عَانِيَهُ وَيَرِثُ مَالَهُ".
مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث میں ہوں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے ۱؎ جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا، اور اس کے مال کا وارث ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11576) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اپنے بھانجے کا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2899)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المقدام بن معدي كرب الكندي، أبو يحيى، أبو كريمةصحابي
👤←👥يحيى بن المقدام الكندي
Newيحيى بن المقدام الكندي ← المقدام بن معدي كرب الكندي
مجهول الحال
👤←👥صالح بن يحيى الكندي
Newصالح بن يحيى الكندي ← يحيى بن المقدام الكندي
مقبول
👤←👥يزيد بن حجر الشامي
Newيزيد بن حجر الشامي ← صالح بن يحيى الكندي
مجهول
👤←👥إسماعيل بن عياش العنسي، أبو عتبة
Newإسماعيل بن عياش العنسي ← يزيد بن حجر الشامي
صدوق في روايته عن أهل بلده وخلط في غيرهم
👤←👥محمد بن المبارك القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن المبارك القرشي ← إسماعيل بن عياش العنسي
ثقة
👤←👥عبد السلام بن عتيق العنسي، أبو هشام
Newعبد السلام بن عتيق العنسي ← محمد بن المبارك القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2901
أنا وارث من لا وارث له أفك عانيه وأرث ماله الخال وارث من لا وارث له يفك عانيه ويرث ماله
سنن ابن ماجه
2634
أنا وارث من لا وارث له أعقل عنه وأرثه الخال وارث من لا وارث له يعقل عنه ويرثه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2901 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2901
فوائد ومسائل:

ان احادیث میں حکومت اسلامیہ کی اقتصادی پالیسی کا ایک پہلو بیان ہواہے۔
کہ وہ اپنی رعیت کو معاشی فلاح وبہبود کی ہر طرح سے ذمہ دار ہوتی ہے۔
یہاں تک کہ اگر کوئی مقروض مرجائے تو ہو اس کا قرضہ ادا کرے گی۔
بے سہارا چھوٹے بچوں اور بیوائوں کی کفالت کرے گی۔
جبکہ وراثت رشتہ داروں میں تقسیم ہوگی۔


ماموں ذوی الارحام میں سے ہے۔
دوسرے وارثوں کے نہ ہونے کی صورت میں وہی وارث ہے۔
اور اسی طرح اگر بھانجے کے ذمے کوئی مالی حقوق آتے ہوں۔
تو وہ ان کی ادایئگی کا بھی پابند ہے۔
اس میں یہ بھی تعلیم ہے کہ بحیثیت مسلمان انسان کو اپنے قریبی بعیدی سبھی رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کا معاملہ مظبوط رکھنا چاہیے۔
جیسے جی یہی لوگ اس کے معاون و مددگار اور اس کے پیچھے اس کی اولاد کے کفیل بنتے ہیں۔


اگر کوئی شخص لاوارث ہوتو حکومت اسلامیہ (بیت المال) اس کی وارث ہوگی۔
اور ایسے شخص پر لازم آنے والے مالی حقوق بھی حکومت ادا کرے گی۔


یہ رفاحی اصول مسلمانوں اور مومنوں کے لئے ہیں۔
جو بلاجواز حکومت سے صدقات لینے کے روادار نہیں ہوسکتے۔
کیونکہ ایمان انسان کے اندر تقویٰ اور طہارت پیدا کرتا ہے۔
اس لئے یہ نہ سمجھا جائے کہ ان رعایتوں کی وجہ سے لوگ محنت نہیں کریں گے اور حکومت ہی پر بوجھ بن کر رہ جایئں گے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2901]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2634
دیت عاقلہ (قاتل اور اس کے خاندان والوں) پر ہے ورنہ بیت المال سے دی جائے گی۔
مقدام شامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث میں ہوں، اس کی طرف سے دیت بھی ادا کروں گا اور اس کا ترکہ بھی لوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کی دیت بھی ادا کرے گا، اور ترکہ بھی پائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2634]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
وارثوں میں سب سے پہلے ان کو حصہ دیا جاتا ہے جن کے حصے قرآن مجید اور احادیث میں مقرر کردیے گئے ہیں۔
انہیں اصحاب الفروض کہتے ہیں۔
ان کی عدم موجودگی میں، یا ان کو دے کر باقی بچنے والا مال عصبہ کو ملتا ہے، یعنی میت کے وہ رشتے دار جن کا تعلق میت سے عورت کے واسطے سے نہ ہو، مثلاً:
بھائی، بھتیجا، چچا اور تایا وغیرہ۔
اگر عصبہ موجود نہ ہوں تو پھراولوالارحام وارث ہوتےہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کا میت سے تعلق عورت کے واسطے سے ہوتا ہے، مثلاً:
ماموں (ماں کا بھائی)
، بھانجا(بہن کا بیٹا)
، نانا (ماں کا والد)
اور خالہ (ماں کی بہن)
وغیرہ۔

(2)
عصبہ کی عدم موجودگی میں اولو الارحام جس طرح ترکے کے حق دار ہوتے ہیں اسی طرح مالی ذمے داریوں کی ادائیگی بھی ان پر لازم ہوتی ہے، چنانچہ یہ رشتے دار اس صورت میں دیت کی ادائیگی کے بھی ذمے دار ہوتے ہیں۔
وراثت سے متعلق تفصیلی احکام و مسائل کے لیے دیکھئے: اسلامی قانون وراثت از مولانا ابونعمان بشیراحمد، طبع دارالسلام لاہور۔

(3)
لاوارث میت کی جائیداد بیت المال کےلیے ہوتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی حکومت کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے اس مال کا انتظام فرماتے تھے۔
خلیفۃ المسلمین بیت المال کے ذریعے سے یہ ذمے داری پوری کرتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2634]