علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء في طلب الإمارة
باب: حکومت و اقتدار کو طلب کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2930
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ بِشْرِ بْنِ قُرَّةَ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ رَجُلَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَشَهَّدَ أَحَدُهُمَا، ثُمَّ قَالَ: جِئْنَا لِتَسْتَعِينَ بِنَا عَلَى عَمَلِكَ، وَقَالَ الآخَرُ مِثْلَ قَوْلِ صَاحِبِهِ، فَقَالَ:إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَهُ، فَاعْتَذَرَ أَبُو مُوسَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: لَمْ أَعْلَمْ لِمَا جَاءَا لَهُ فَلَمْ يَسْتَعِنْ بِهِمَا عَلَى شَيْءٍ حَتَّى مَاتَ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دو آدمیوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے (اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی) گواہی دی پھر کہا کہ ہم آپ کے پاس اس غرض سے آئے ہیں کہ آپ ہم سے اپنی حکومت کے کام میں مدد لیجئے ۱؎ دوسرے نے بھی اپنے ساتھی ہی جیسی بات کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے نزدیک تم میں وہ شخص سب سے بڑا خائن ہے جو حکومت طلب کرے“۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت پیش کی، اور کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں آدمی اس غرض سے آئے ہیں پھر انہوں نے ان سے زندگی بھر کسی کام میں مدد نہیں لی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2930]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں دو آدمیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پس ان میں سے ایک نے (بات کرنے کے لیے) کلماتِ تشہد پڑھے اور پھر کہا: ”ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ہم سے اپنے کام میں کوئی مدد لیں (یعنی عامل اور حاکم بنا دیں)۔“ اور دوسرے نے بھی اپنے ساتھی کی سی بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یہ ذمہ داری طلب کرتا ہے وہ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ خائن ہوتا ہے۔“ چنانچہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت چاہی اور کہا: ”مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ کس مقصد سے آئے ہیں۔“ اور پھر آپ نے اپنی وفات تک ان سے کسی کام میں مدد نہیں لی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/آداب القضاة 4 (5384)، (تحفة الأشراف: 9077)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/393، 411) (منکر)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ہمیں عامل بنا دیجئے یا حکومت کی کوئی ذمہ داری ہمارے سپرد کر دیجئے۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن أبي خالد عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين : 2/36وھو من الثالثة) وأما أخوه سعيد: فثقة وثقه العجلي وابن حبان وغيرهما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 106
إسناده ضعيف
إسماعيل بن أبي خالد عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين : 2/36وھو من الثالثة) وأما أخوه سعيد: فثقة وثقه العجلي وابن حبان وغيرهما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 106
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2930
| أخونكم عندنا من طلبه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2930 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2930
فوائد ومسائل:
یہ حدیث ضعیف منکر ہے۔
لیکن اس سے پہلے روایت اور دیگر صحیح روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ حکومت منصب اور عہد وطلب کرنا شرعا محبوب نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج کل اکثر لوگ حکومتی مناصب چونکہ طلب کر کے اور ہرطرح کے جتن کر کے لیتے ہیں۔
تو توفیق ربانی ان کے شامل حال نہیں ہوتی۔
یہ حدیث ضعیف منکر ہے۔
لیکن اس سے پہلے روایت اور دیگر صحیح روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ حکومت منصب اور عہد وطلب کرنا شرعا محبوب نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج کل اکثر لوگ حکومتی مناصب چونکہ طلب کر کے اور ہرطرح کے جتن کر کے لیتے ہیں۔
تو توفیق ربانی ان کے شامل حال نہیں ہوتی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2930]
Sunan Abi Dawud Hadith 2930 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري