🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب في العرافة
باب: عرافت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2933
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ،عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ عَلَى مَنْكِبِهِ، ثُمَّ قَالَ:" لَهُ أَفْلَحْتَ يَا قُدَيْمُ إِنْ مُتَّ وَلَمْ تَكُنْ أَمِيرًا وَلَا كَاتِبًا وَلَا عَرِيفًا".
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر مارا پھر ان سے فرمایا: قدیم! (مقدام کی تصغیر ہے) اگر تم امیر، منشی اور عریف ہوئے بغیر مر گئے تو تم نے نجات پا لی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2933]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11566)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/133) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی صالح بن یحییٰ بن مقدام ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: عریف: اپنے ساتھیوں کا تعارف کرانے والا، قوم کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے والا، نقیب، یہ حاکم سے کم مرتبے کا ہوتا ہے، اور اپنی قوم کے ہر ایک شخص کا رویہ اور چال چلن حاکم سے بیان کرتا ہے اور اسے برے بھلے کی خبر دیتا ہے۔
۲؎: اس لئے کہ ہر سرکاری کام میں مواخذہ اور تقصیر خدمت کا ڈر لگا رہتا ہے اسی وجہ سے سلف نے زراعت اور تجارت کو نوکری سے بہتر جانا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صالح بن يحيي لين و أبوه مستور (تق : 2894،7653)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 106

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المقدام بن معدي كرب الكندي، أبو يحيى، أبو كريمةصحابي
👤←👥صالح بن يحيى الكندي
Newصالح بن يحيى الكندي ← المقدام بن معدي كرب الكندي
مقبول
👤←👥يحيى بن جابر الطائي، أبو عمرو
Newيحيى بن جابر الطائي ← صالح بن يحيى الكندي
ثقة
👤←👥سليمان بن سليم الكناني، أبو سلمة
Newسليمان بن سليم الكناني ← يحيى بن جابر الطائي
ثقة
👤←👥محمد بن حرب الخولاني، أبو عبد الله
Newمحمد بن حرب الخولاني ← سليمان بن سليم الكناني
ثقة
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص
Newعمرو بن عثمان القرشي ← محمد بن حرب الخولاني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2933
أفلحت يا قديم إن مت ولم تكن أميرا ولا كاتبا ولا عريفا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2933 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2933
فوائد ومسائل:
اس باب کی دونوں حدیثیں سنداً ضعیف ہیں۔
لیکن اس حدیث سے اور اس سے اگلی حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے۔
کہ عریف یا گاؤں کے چودھری ملک اور وڈیرے کا دستور قدیم سے موجود تھا۔
اور یہ لوگ ماضی کی روایات کے تحت معاشرے کی ایک اہم ضرورت پوری کرتے تھے۔
لیکن بہت سی ناروا باتیں نمائندگی میں عدم توازن لوگوں کے بعض حقوق سے اغماض جیسی غلطیاں بھی ان سے سر زد ہوتی تھیں۔
اس قدیم طریق کے مطابق چل کر ذمہ داریاں نبھانا اسلام کے تصور عدل کے مطابق تو نہ تھا لیکن جب تک ایماندار تربیت یافتہ عملہ حاصل نہ ہوجاتا۔
اور ان کو ہر جگہ متعین نہ کر دیا جاتا۔
انہیں لوگوں سے کام لینا ناگزیر تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء نے مختلف آبادیوں کی نمائندگی اور انتظام اور انصرام کےلئے متعدد طریق اختیار فرمائے۔
بعض اوقات قبائل میں سے مسلمان ہونے والے لوگوں کی دینی تربیت کرکے یہ ذمہ داریاں ان کے سپرد کر دیں۔
بعض اوقات سابقہ عریفوں کو ہی نئی ہدایات کے ساتھ اپنے منصب پر برقرار رکھا۔
بعض اوقات اپنی تربیت یافتہ ٹیم سے لوگ بھیج دیے۔
بعض دفعہ تربیت دینے والے بھیجے۔
جو مقامی افراد کو تیار کرکے وہاں کے معاملات ان کے سپرد کرکے واپس آجاتے۔
یہ تمام طریقے صحیح احادیث میں مذکور ہیں۔
علاوہ ازیں حکومتی مناصب کی ذمہ داریاں دنیا اور آخرت کے لحاظ سے بڑی سخت ہیں۔
لیکن اگر ایمان اور دیانت سے یہ فرائض نبھائے جاییں تو اس کا اجر بھی بہت زیادہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2933]