سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب في أرزاق العمال
باب: ملازمین کی تنخواہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2944
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ، قَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي.
ابن الساعدی (عبداللہ بن عمرو السعدی القرشی العامری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ (وصولی) پر عامل مقرر کیا جب میں اس کام سے فارغ ہوا تو عمر رضی اللہ عنہ نے میرے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے، انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (زکاۃ کی وصولی کا) کام کیا تھا تو آپ نے مجھے اجرت دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2944]
سیدنا ابن ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقات کا عامل (تحصیلدار مال) بنایا، جب میں فارغ ہو کر آیا تو آپ نے میرے لیے حق الخدمت ادا کرنے کا حکم دیا۔ میں نے عرض کیا: ”یہ کام میں نے اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے“، آپ نے فرمایا: ”جو ملتا ہے لے لو، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کچھ کام کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا بدل عنایت فرمایا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 51 (1473)، والأحکام 17 (7163)، صحیح مسلم/الزکاة 37 (1045)، سنن النسائی/الزکاة 94 (2605، 2607)، (تحفة الأشراف: 10487)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/17،40، 52)، سنن الدارمی/الزکاة 19 (1689) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1045)
مشكوة المصابيح (3749)
مشكوة المصابيح (3749)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2944
| خذ ما أعطيت فإني قد عملت على عهد رسول الله فعملني |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2944 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2944
فوائد ومسائل:
1۔
واجب ہے کہ جس کسی سے کوئی کام لیا جائے۔
تو اس کا حق الخدمت بھی ادا کیا جائے۔
اس طرح کام کرنے والے پر فی الواقع ایک ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے۔
اور تقصیرکی صورت میں جواب طلبی کا حق بھی موجود رہتا ہے۔
ورنہ غفلت کر جانے کا پہلوغالب رہے گا۔
2۔
راوی حدیث کو ابن السعدی بھی کہا گیا ہے اور اس کا اصل نام عبد اللہ یا عمرو یا قدامہ روایت ہوا ہے۔
1۔
واجب ہے کہ جس کسی سے کوئی کام لیا جائے۔
تو اس کا حق الخدمت بھی ادا کیا جائے۔
اس طرح کام کرنے والے پر فی الواقع ایک ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے۔
اور تقصیرکی صورت میں جواب طلبی کا حق بھی موجود رہتا ہے۔
ورنہ غفلت کر جانے کا پہلوغالب رہے گا۔
2۔
راوی حدیث کو ابن السعدی بھی کہا گیا ہے اور اس کا اصل نام عبد اللہ یا عمرو یا قدامہ روایت ہوا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2944]
Sunan Abi Dawud Hadith 2944 in Urdu
عبد الله بن قدامة السعدي ← عمر بن الخطاب العدوي