سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب في قسم الفىء
باب: فے یعنی جنگ کے بغیر حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2952
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِظَبْيَةٍ فِيهَا خَرَزٌ فَقَسَمَهَا لِلْحُرَّةِ وَالأَمَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ أَبِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلا لایا گیا جس میں خونگے (قیمتی پتھر) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد عورتوں اور لونڈیوں میں تقسیم کر دیا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) آزاد مردوں اور غلاموں میں تقسیم کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2952]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/156، 159، 238) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ مونگوں کی تقسیم عورتوں کے لئے مخصوص نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4059)
مشكوة المصابيح (4059)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2952
| ظبية فيها خرز فقسمها للحرة والأمة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2952 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2952
فوائد ومسائل:
گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلاموں اور کنیزوں کا آزاد لوگوں کی طرح باقاعدہ حصہ مقرر فرما کر ان کو ادا کرتے تھے، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پالیسی بھی بالکل یہی تھی۔
گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلاموں اور کنیزوں کا آزاد لوگوں کی طرح باقاعدہ حصہ مقرر فرما کر ان کو ادا کرتے تھے، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پالیسی بھی بالکل یہی تھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2952]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق