یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب في صفايا رسول الله صلى الله عليه وسلم من الأموال
باب: مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2972
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: جَمَعَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بَنِي مَرْوَانَ حِينَ اسْتُخْلِفَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ فَدَكُ فَكَانَ يُنْفِقُ مِنْهَا وَيَعُودُ مِنْهَا عَلَى صَغِيرِ بَنِي هَاشِمٍ وَيُزَوِّجُ مِنْهَا أَيِّمَهُمْ، وَإِنَّ فَاطِمَةَ سَأَلَتْهُ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهَا فَأَبَى فَكَانَتْ كَذَلِكَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ عُمَرُ عَمِلَ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، ثُمَّ أَقْطَعَهَا مَرْوَانُ، ثُمَّ صَارَتْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ عُمَرُ: يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام لَيْسَ لِي بِحَقٍّ وَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ رَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ يَعْنِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلِيَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْخِلَافَةَ وَغَلَّتُهُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ دِينَارٍ، وَتُوُفِّيَ وَغَلَّتُهُ أَرْبَعُ مِائَةِ دِينَارٍ وَلَوْ بَقِيَ لَكَانَ أَقَلَّ.
مغیرہ کہتے ہیں عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مروان بن حکم کے بیٹوں کو اکٹھا کیا پھر ارشاد فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فدک تھا، آپ اس کی آمدنی سے (اہل و عیال، فقراء و مساکین پر) خرچ کرتے تھے، اس سے بنو ہاشم کے چھوٹے بچوں پر احسان فرماتے تھے، ان کی بیوہ عورتوں کے نکاح پر خرچ کرتے تھے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فدک مانگا تو آپ نے انہیں دینے سے انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک ایسا ہی رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ویسے ہی عمل کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کیا تھا، یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی انتقال فرما گئے، پھر مروان نے اسے اپنی جاگیر بنا لیا، پھر وہ عمر بن عبدالعزیز کے قبضہ و تصرف میں آیا، عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: تو میں نے اس معاملے پر غور و فکر کیا، میں نے اسے ایک ایسا معاملہ جانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فاطمہ علیہا السلام کو دینے سے منع کر دیا تو پھر ہمیں کہاں سے یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم اسے اپنی ملکیت میں رکھیں؟ تو سن لو، میں تم سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اسے میں نے پھر اس کی اپنی اسی حالت پر لوٹا دیا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا (یعنی میں نے پھر وقف کر دیا ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیزخلیفہ مقرر ہوئے تو اس وقت ان کی آمدنی چالیس ہزار دینار تھی، اور انتقال کیا تو (گھٹ کر) چار سو دینار ہو گئی تھی، اور اگر وہ اور زندہ رہتے تو اور بھی کم ہو جاتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2972]
جناب مغیرہ (مغیرہ بن حکیم صنعانی) سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ جب خلیفہ بنے تو انہوں نے بنو مروان کو جمع کیا اور کہا: ”اراضی فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھیں، آپ اسی کی آمدنی سے اپنے اخراجات پورے کیا کرتے تھے، بنو ہاشم کے چھوٹے بچوں پر اسی کے ذریعے سے احسان فرماتے اور بیواؤں کی شادی کراتے تھے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس کا مطالبہ کیا کہ یہ اسے دے دیا جائے، تو آپ نے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات یہ معاملہ ایسے ہی رہا حتیٰ کہ ان کی وفات ہو گئی۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو اس میں وہ وہی کچھ کرتے رہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہوتا تھا حتیٰ کہ اپنی راہ چلے گئے (وفات پا گئے)۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو اس میں وہی کیا جو وہ دونوں کرتے رہے تھے حتیٰ کہ وہ (بھی) اپنی راہ چلے گئے (ان کی بھی وفات ہو گئی)۔ پھر یہ زمین مروان نے اپنے لیے خاص کر لی، پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے قبضے میں آ گئی۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سوچا ہے کہ جو چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی صاحبزادی) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دی ہے، تو مجھے بھی اس پر کوئی حق حاصل نہیں ہے اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے یہ اراضی اسی حال پر واپس کر دی ہیں جیسے کہ تھیں۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”جب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ خلیفہ بنے تو ان کی آمدنی چالیس ہزار دینار تھی اور جب وہ فوت ہوئے تو چار سو دینار رہ گئی تھی، اگر وہ حیات رہتے تو اور بھی کم ہو جاتی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2972]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19147) (ضعیف)» (اس کے راوی مغیرة بن مقسم مدلس اور کثیر الارسال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند منقطع ومغيرة بن مقسم مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107
إسناده ضعيف
السند منقطع ومغيرة بن مقسم مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2972
| له فدك فكان ينفق منها ويعود منها على صغير بني هاشم ويزوج منها أيمهم وإن فاطمة سألته أن يجعلها لها فأبى فكانت كذلك في حياة رسول الله حتى مضى لسبيله فلما أن ولي أبو بكر عنه عمل فيها بما عمل النبي في حياته حتى مضى لسبيله فلما أن ولي عمر عمل فيها بمثل ما عملا |
Sunan Abi Dawud Hadith 2972 in Urdu
المغيرة بن مقسم الضبي ← عمر بن عبد العزيز الأموي