سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب في صفايا رسول الله صلى الله عليه وسلم من الأموال
باب: مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2975
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: سَمِعْت حَدِيثًا مِن رَجُلٍ فَأَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ: اكْتُبْهُ لِي فَأَتَى بِهِ مَكْتُوبًا مُذَبَّرًا، دَخَلَ الْعَبَّاسُ، وَعَلِيٌّ عَلَى عُمَرَ، وَعِنْدَهُ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَسَعْدٌ، وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ فَقَالَ عُمَرُ: لِطَلْحَةَ، وَ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعْدٍ: أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ مَالِ النَّبِيِّ صَدَقَةٌ إِلَّا مَا أَطْعَمَهُ أَهْلَهُ وَكَسَاهُمْ إِنَّا لَا نُورَثُ؟" قَالُوا: بَلَى قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ عَلَى أَهْلِهِ وَيَتَصَدَّقُ بِفَضْلِهِ ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ سَنَتَيْنِ فَكَانَ يَصْنَعُ الَّذِي كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ.
ابوالبختری کہتے ہیں میں نے ایک شخص سے ایک حدیث سنی وہ مجھے انوکھی سی لگی، میں نے اس سے کہا: ذرا اسے مجھے لکھ کر دو، تو وہ صاف صاف لکھ کر لایا: علی اور عباس رضی اللہ عنہما عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور ان کے پاس طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم (پہلے سے) بیٹھے تھے، یہ دونوں (یعنی عباس اور علی رضی اللہ عنہما) جھگڑنے لگے، عمر رضی اللہ عنہ نے طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”نبی کا سارا مال صدقہ ہے سوائے اس کے جسے انہوں نے اپنے اہل کو کھلا دیا یا پہنا دیا ہو، ہم لوگوں کا کوئی وارث نہیں ہوتا“، لوگوں نے کہا: کیوں نہیں (ہم یہ بات جانتے ہیں آپ نے ایسا ہی فرمایا ہے) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مال میں سے اپنے اہل پر صرف کرتے تھے اور جو کچھ بچ رہتا وہ صدقہ کر دیتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے آپ کے بعد اس مال کے متولی ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال تک رہے، وہ ویسے ہی کرتے رہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، پھر راوی نے مالک بن اوس کی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2975]
ابوالبختری کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے حدیث سنی جو مجھے پسند آئی، میں نے کہا کہ ”یہ مجھے لکھ دو“، تو اس نے یہ مجھے صاف صاف لکھ دی کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ان دونوں کا آپس میں جھگڑا تھا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم سے کہا: ”کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی کا سب مال صدقہ ہوتا ہے، سوائے اس کے جو وہ اپنے گھر والوں کو کھلا دیں یا پہنا دیں۔ ہم لوگ اپنا کوئی وارث نہیں بناتے؟“”ان سب نے کہا: ”ہاں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے اور بقیہ صدقہ کر دیا کرتے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال تک اس جائیداد کے متولی رہے اور وہی کچھ کرتے رہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ پھر (ابوالبختری) نے مالک بن اوس کی حدیث سے کچھ بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2975]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3649، 3952) (صحیح)» (شواہد و متابعات پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے جو پتہ نہیں صحابی ہے یاتابعی؟)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الرجل مجھول وحديث البخاري (7305) ومسلم (1757) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
إسناده ضعيف
الرجل مجھول وحديث البخاري (7305) ومسلم (1757) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2975
| لا نورث ينفق من ماله على أهله ويتصدق بفضله |
Sunan Abi Dawud Hadith 2975 in Urdu
عبد الرحمن بن عوف الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري