الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب في إخراج اليهود من جزيرة العرب
باب: جزیرہ عرب سے یہود کے نکالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3032
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَكُونُ قِبْلَتَانِ فِي بَلَدٍ وَاحِدٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ملک میں دو قبلے نہیں ہو سکتے“، (یعنی مسلمان اور یہود و نصاریٰ عرب میں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزکاة 11 (633)، (تحفة الأشراف: 5399)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 223، 285) (ضعیف)» (اس کے راوی قابوس ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (633،634)
قابوس : فيه لين (تق : 5445) ضعيف ضعفه الجمهور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 110
إسناده ضعيف
ترمذي (633،634)
قابوس : فيه لين (تق : 5445) ضعيف ضعفه الجمهور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 110
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
633
| لا تصلح قبلتان في أرض واحدة ليس على المسلمين جزية |
سنن أبي داود |
3032
| لا تكون قبلتان في بلد واحد |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3032 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3032
فوائد ومسائل:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
لیکن جس طرح عیسایئت کے مرکز ویٹکین سٹیٹ میں دوسرے دین کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں، اسی طرح مرکز اسلام کو اندرونی خلفشار سے پاک رکھنا عین مصلحت ہے۔
مسلمانوں کا قبلہ بیت اللہ الحرام ہے، جبکہ یہودیوں اور عیسایئوں کا قبلہ بیت المقدس ہے، قبلہ اس سمت کا تعین کرتا ہے۔
جس طرف فکر وعقیدہ کا رخ ہوتا ہے۔
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
لیکن جس طرح عیسایئت کے مرکز ویٹکین سٹیٹ میں دوسرے دین کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں، اسی طرح مرکز اسلام کو اندرونی خلفشار سے پاک رکھنا عین مصلحت ہے۔
مسلمانوں کا قبلہ بیت اللہ الحرام ہے، جبکہ یہودیوں اور عیسایئوں کا قبلہ بیت المقدس ہے، قبلہ اس سمت کا تعین کرتا ہے۔
جس طرف فکر وعقیدہ کا رخ ہوتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3032]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 633
مسلمانوں پر جزیہ نہیں ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سر زمین پر دو قبلے ہونا درست نہیں ۱؎ اور نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے“ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 633]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سر زمین پر دو قبلے ہونا درست نہیں ۱؎ اور نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے“ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 633]
اردو حاشہ:
1؎:
ایک سر زمیں پر دو قبلے کا ہونا درست نہیں کا مطلب یہ ہے کہ ایک سر زمین پر دو دین والے بطور برابری کے نہیں رہ سکتے کوئی حاکم ہو گا کوئی محکوم۔
2؎:
نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے کا مطلب یہ ہے کہ ذمیوں میں سے کوئی ذمی اگر جزیہ کی ادائیگی سے پہلے مسلمان ہو گیا ہو تو اس سے جزیہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
نوٹ:
(سند میں قابوس ضعیف ہیں)
1؎:
ایک سر زمیں پر دو قبلے کا ہونا درست نہیں کا مطلب یہ ہے کہ ایک سر زمین پر دو دین والے بطور برابری کے نہیں رہ سکتے کوئی حاکم ہو گا کوئی محکوم۔
2؎:
نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے کا مطلب یہ ہے کہ ذمیوں میں سے کوئی ذمی اگر جزیہ کی ادائیگی سے پہلے مسلمان ہو گیا ہو تو اس سے جزیہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
نوٹ:
(سند میں قابوس ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 633]
الحصين بن جندب المذحجي ← عبد الله بن العباس القرشي